افریقی کیتھولک کمیونٹی کو امید ہے کہ ان میں سے کوئی ایک شخصیت جدید دور کا پہلا سیاہ فام پوپ بن سکتا ہے، جو پوپ فرانسس کی ترقی پذیر دنیا کے لیے آواز بلند کرنے کی میراث کو آگے بڑھائے گا۔ اگرچہ امکانات کم ہیں، مگر چرچ میں افریقہ کے بڑھتے ہوئے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی پنجاب حکومت کی اپیلیں نمٹا دیں
ویٹیکن کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، افریقہ وہ براعظم ہے جہاں رومن کیتھولک چرچ سب سے تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ فرانسس کی وفات کے بعد افریقی کیتھولک افراد نے اظہار کیا کہ ایک افریقی پوپ کا وقت اب آ چکا ہے۔
عابدجان کے ایک پادری، چارلس یاپی نے کہا، "افریقی پوپ نہ صرف افریقہ میں مسیحی عقیدے کو تقویت دے گا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دے گا کہ افریقی اس بلند منصب پر فائز ہو سکتے ہیں۔”
اگرچہ ابتدائی تاریخ میں کچھ پوپ شمالی افریقہ سے تعلق رکھتے تھے، مگر حالیہ صدیوں میں کوئی بھی سیاہ فام پوپ منتخب نہیں ہوا۔ موجودہ وقت میں گھانا کے کارڈینل پیٹر ٹرکسن، کانگو کے کارڈینل امبونگو اور آئیوری کوسٹ کے کارڈینل اگنیس بیسی جیسے نام نمایاں ہیں۔
2023 میں، دنیا کے تقریباً 20 فیصد کیتھولک افریقہ سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کی تعداد میں 9 ملین کا اضافہ ہوا۔ آکرا کے آرچ بشپ جان بوناوینچر کوفی نے کہا کہ اگر ٹرکسن پوپ منتخب ہوتے ہیں تو یہ افریقی چرچ کی ترقی کا اعتراف ہوگا۔
تاہم، کچھ افراد کا ماننا ہے کہ پوپ کا انتخاب اس کی نسل یا قومیت پر نہیں بلکہ اس کی روحانی قیادت اور اقدار پر مبنی ہونا چاہیے۔ کانگو کے پادری کویلو نے کہا، "ہم دعا کرتے ہیں کہ چرچ کو ایک اچھا رہنما ملے، چاہے وہ کسی بھی خطے سے ہو۔”
اگرچہ فرانسس نے تارکین وطن، غریبوں اور مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی، مگر ایک افریقی پوپ ممکن ہے ان تمام ترقی پسند خیالات کو نہ اپنائے، خصوصاً ہم جنس پرستی کے حوالے سے۔ یاپی نے کہا کہ افریقی معاشرہ ان نظریات کو قبول نہیں کرتا۔
کارڈینل ٹرکسن، جو ویٹیکن میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے ماضی میں متنازع بیانات دیے تھے، تاہم حالیہ برسوں میں ان کا رویہ معتدل ہوا ہے۔
دوسری جانب کارڈینل امبونگو کو فرانسس نے اپنی مشاورتی کونسل کا حصہ بنایا تھا۔ انہوں نے ہم جنس جوڑوں کی برکات کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے چرچ کو نقصان پہنچے گا۔
کارڈینل بیسی، جو حالیہ برسوں میں سامنے آئے ہیں، نے کہا کہ "چرچ کی آفاقیت ہر خطے سے کارڈینلز کی موجودگی سے جھلکتی ہے۔”
