کراچی: پاکستان سنی تحریک کے مرکزی رہنما محمد شہزاد قادری نے کہا کہ جو لوگ مذہبی منافرت پھیلاتے ہیں، وہ اسلام اور ملک کے دشمن ہیں۔ انہوں نے مزار سیدنا عبداللہ شاہ غازی پر انتشار اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو قانونی طور پر منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ قادری نے کہا کہ دہشتگردوں نے دہشتگردی کی وارننگ دی تھی اور سندھ حکومت نے مزار کو سیل کر دیا تھا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا مذاق اُڑایا گیا۔
عوام کے قائد سے امر شہید تک – ذوالفقار علی بھٹو کی لازوال جدوجہد
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کے بجائے مزار کے سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنا چاہیے تھا اور مزار کو زائرین کے لیے کھلا رکھنا چاہیے تھا تاکہ دہشتگردوں کے حوصلے پست ہوتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سنی تحریک نے دہشتگردی کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور اس جنگ میں دو اہم رہنماؤں کی قربانی دی ہے۔
مذاہب کے درمیان تقسیم کی سازشیں
شہزاد قادری نے کہا کہ عید الفطر کی رات مزار عبداللہ شاہ غازی پر سینہ کوبی کر کے ایک سازش کی گئی تھی، جس کے پیچھے ایسے عناصر تھے جو فرقہ وارانہ فسادات کرانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ سیدنا عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے تقدس کا ہے اور ہم اس کا دفاع ہر قیمت پر کریں گے۔
انہوں نے سندھ حکومت کی صفوں میں موجود چند وزیروں پر الزام لگایا کہ وہ کراچی میں مذہبی فسادات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے سہولت کار بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان وزیروں کے خلاف ماضی میں قانونی کارروائی کی گئی تھی اور آج بھی اس راستے پر کام جاری ہے۔
اہم مطالبات
پاکستان سنی تحریک نے مطالبہ کیا ہے کہ عید الفطر کی رات کو مزار پر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور ان افراد کو سخت سزائیں دی جائیں جو مزار کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہزاد قادری نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سنی تحریک ایک دفاعی تنظیم ہے اور وہ اپنے مسلک، نظریے اور مزارات کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
