پاکستان میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی تکنیکی ٹیم، جو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ معاہدے کے لیے عدالتی اور ریگولیٹری نظام کی جانچ پڑتال کے لیے آئی ہوئی ہے، نے آج چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں آئی ایم ایف کے وفد نے پروگرام کے نفاذ اور جائیداد کے حقوق کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔
سید نور کی پہلی اور دوسری بیوی کے حوالے سے دلچسپ انکشافات
چیف جسٹس نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ انہوں نے آئی ایم ایف کے وفد کو بتایا کہ پاکستان آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کی پاسداری کرتا ہے، اور ان کی درخواست پر تمام تفصیلات فراہم کرنا ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ انہوں نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے اور ماتحت عدلیہ کی نگرانی کے بارے میں آگاہ کیا۔
چیف جسٹس نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف کے وفد نے معاہدوں کی پاسداری اور پراپرٹی حقوق کے حوالے سے تجاویز دیں، جس پر عدلیہ اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے عدالتوں میں اصلاحات کرنے جا رہے ہیں۔
عمران خان کے خط کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا خط سنجیدہ نوعیت کا ہے، جسے آئینی کمیٹی کے ذریعے جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے خط کے حوالے سے بھی انہوں نے کہا کہ وہ جواب نہیں دیں گے اور کہا کہ دونوں حکومت اور اپوزیشن کو عدالتی اصلاحات کے لیے سپریم کورٹ مدعو کیا ہے۔
چیف جسٹس نے ججز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سسٹم پر اعتماد رکھنا چاہیے اور اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے ججز کو سسٹم کو چلانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اصلاحات آہستہ آہستہ ہوں گی۔
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ میں لانے کے حامی ہیں اور ان کا نام اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے زیر غور آئے گا۔
