سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دنیا ممکنہ طور پر گلوبل وارمنگ کے ایک نئے اور خطرناک دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں درجہ حرارت 1.5 ڈگری سیلسیس سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ وہ حد ہے جس کا سامنا انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی آئی ایم ایف وفد سے ملاقات: عدالتی اصلاحات اور پراپرٹی حقوق پر گفتگو
پیرس معاہدے کے اثرات
پیرس معاہدے کے تحت عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن ماہرین کے مطابق یہ حد فطرت اور انسانوں پر بڑے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت سیلاب، ہیٹ ویو، طوفان، اور سمندر کی سطح میں اضافے جیسے مسائل کو جنم دے رہا ہے، جبکہ حیوانات اور نباتات کی مختلف اقسام کے معدوم ہونے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
تحقیقات کے نتائج
اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم ریپل نے دو حالیہ تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر درجہ حرارت 1.5 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرتا ہے تو یہ شدید موسم اور انسانی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلا کہ 2024 میں درجہ حرارت 1.5 ڈگری سیلسیس عبور کرنے کا امکان ہے، جو ایک طویل مدتی گرمی کے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو پیرس معاہدے کے اہداف کی خلاف ورزی 10 سال کے اندر ہو جائے گی۔
اقدامات کی ضرورت
سائنس دانوں نے کہا کہ یہ وقت خوفزدہ ہونے کا نہیں بلکہ فوری اقدامات اٹھانے کا ہے۔ مزید تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ اگر دنیا گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھے تو تباہ کن اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
تشویش اور مستقبل
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 کی دہائی کے اوائل میں 1.5 ڈگری سیلسیس عبور کرنے کے امکانات 50 فیصد ہیں۔ تاہم، گلوبل وارمنگ کے اثرات جیسے غیر معمولی بارشیں، آگ، اور طوفان پہلے ہی واضح ہیں، جس سے فوری کارروائی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
