کراچی میں ایرانی آرٹسٹ کے فن پاروں کی "لکڑی کے صحیفے” نمائش کا افتتاح

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ آرٹس کونسل اور میڈیا کی بدولت آرٹسٹ کے کام کو پذیرائی مل رہی ہے۔ ہم ایرانی آرٹسٹ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنے شاہکار ہمارے ساتھ شیئر کیے۔ تجاوزات کا مسئلہ شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے اور اس کا حل تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور ایرانی قونصلیٹ کے اشتراک سے منعقدہ "لکڑی کے صحیفے” (Wooden Scriptures) نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کراچی میں نویں کثیر القومی بحری مشق امن 2025 کا آغاز

تقریب میں صوبائی وزیر سعید غنی، آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ، ایرانی قونصل جنرل حسن نوریان، اور ایرانی آرٹسٹ پرویز عابدی نے شرکت کی۔ اس موقع پر لکڑی سے تیار کردہ فن پاروں اور اسلامی آیات پر مبنی شاہکاروں کو پیش کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے ایرانی آرٹسٹ کی تخلیقی محنت کو سراہا اور کہا کہ ایسے شاہکار کئی سالوں کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کراچی میں تجاوزات اور ٹریفک مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایرانی قونصل جنرل حسن نوریان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کا ثقافتی اور تہذیبی رشتہ صدیوں پرانا ہے، اور آج کا یہ ایونٹ اس تعلق کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے ایران اور پاکستان کے تاریخی تعلقات اور ثقافتی یکجہتی پر روشنی ڈالی اور ایرانی فنکاروں کے کام کو آرٹس کونسل میں نمائش کے لیے پیش کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

نمائش میں مختلف درختوں کی لکڑی، جیسے عناب، نارنج، زرشک، اور سماروبا، کا استعمال کرکے بنائے گئے منفرد فن پارے شامل ہیں۔ ان میں آیت الکرسی، چہار قل، سورہ الحمد، اور دیگر اسلامی آیات سمیت مختلف قدرتی مناظر اور اشکال کو نمایاں کیا گیا ہے۔

58 / 100 SEO Score

One thought on “کراچی میں ایرانی آرٹسٹ کے فن پاروں کی "لکڑی کے صحیفے” نمائش کا افتتاح

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!