لیبر قوانین سعید غنی کا صنعتی اداروں میں حفاظتی اقدامات سخت کرنے پر زور

سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہا ہے کہ صنعتی اداروں میں مزدوروں کی حفاظت اور صحت کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔ حکومت، آجر اور مزدوروں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق، آجر اور حکومت کے درمیان بہتر تعلقات کے بغیر کاروباری ماحول اور مزدوروں کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (EFP) کے زیر اہتمام 19ویں پیشہ ورانہ تحفظ و صحت (OSH) ایکسیلنس ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف کمپنیوں کو سال 2026 کے ایوارڈز دیے گئے۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت محفوظ اور صحت مند صنعتی ماحول کو ترجیح دیتی ہے۔ حکومت لیبر قوانین کے نفاذ، آگاہی میں اضافے اور اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے حفاظتی انتظامات اپنانے والے اداروں کی کوششوں کو سراہا۔

صنعتی اداروں میں حفاظتی اقدامات پر زور

صوبائی وزیر نے کہا کہ اس سال 100 سے زائد کمپنیوں نے سیفٹی اور صحت کے تقاضے پورے کیے ہیں۔ انہوں نے اسے خوش آئند قرار دیا۔ تاہم، ان کے مطابق 19 سال کے دوران یہ تعداد ہزاروں میں ہونی چاہیے تھی۔

سعید غنی نے کہا کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے بعد صنعتکاروں نے حفاظتی اقدامات پر زیادہ توجہ دینا شروع کی۔ ان کے بقول، آج بھی برآمدات سے وابستہ صنعتوں میں سیفٹی کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ حفاظتی قوانین پر عمل درآمد صرف ایوارڈز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ جو ادارے مزدوروں کی حفاظت کے مناسب انتظامات نہیں کرتے، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

سعید غنی نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کی پابندی کی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ سخت پابندیوں اور جرمانوں پر احتجاج کے بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان اقدامات سے کتنی جانیں بچ سکتی ہیں۔

غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کی رجسٹریشن

سعید غنی کے مطابق، پاکستان میں غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کی تعداد رسمی شعبے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ سندھ حکومت ان مزدوروں کی رجسٹریشن اور سماجی تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ محنت نے مزدوروں کی رجسٹریشن کے لیے نادرا سے معاہدہ کیا ہے۔ اس عمل کے تحت اہل مزدوروں کو بینظیر مزدور کارڈ فراہم کیے جا رہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ سیسی میں کنٹری بیوشن کے نظام کے باعث بعض آجر اپنے تمام ملازمین کی رجسٹریشن سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ کے اندر موجود رکاوٹوں کا بھی اعتراف کیا۔

ان کے مطابق، حکومت نے چار سے پانچ سال قبل ایسا نظام وضع کرنے پر کام شروع کیا تھا، جس کے تحت آجر سے ہر مزدور کے حساب سے کنٹری بیوشن لینے کے بجائے سالانہ کاروباری حجم یا کسی اور مقررہ شرح کی بنیاد پر رقم وصول کی جاسکے۔ اس سے تمام ملازمین کی رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔

سعید غنی نے بتایا کہ اس سلسلے میں قانون میں ترمیم بھی کی گئی ہے۔ اب سیسی میں رجسٹریشن کا دائرہ صنعتی ملازمین سے آگے بڑھایا گیا ہے۔ حکومت رسمی اور غیر رسمی شعبوں سمیت نجی اداروں کے ملازمین کو بھی رجسٹر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کورونا وبا میں مزدوروں کے ڈیٹا کی کمی

صوبائی وزیر نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران سندھ کی متعدد صنعتیں بند ہوئیں اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہوئے۔ سندھ حکومت نے متاثرہ مزدوروں کی مالی مدد کا فیصلہ کیا، لیکن ملک میں مزدوروں کا مستند ڈیٹا موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر بینظیر مزدور کارڈ پہلے متعارف کرادیا جاتا تو حکومت کے پاس مزدوروں کا کم از کم بنیادی ریکارڈ موجود ہوتا۔ ان کے مطابق، یہ تجربہ مزدوروں کی رجسٹریشن کی اہمیت واضح کرتا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ مزدوروں کے تحفظ کی ذمہ داری صرف کارکنوں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ آجر اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ فیکٹری میں ایک چھوٹا حادثہ بھی کسی مزدور کے پورے خاندان کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس لیے صنعتی اداروں میں حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔

کاروباری ماحول اور مزدوروں کی خوشحالی

سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت صنعتی شعبے کو بہتر کاروباری ماحول اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کے مطابق، آجر کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستحکم کاروباری ماحول کے بغیر نہ معیشت مضبوط ہوسکتی ہے اور نہ ہی مزدوروں کے حالات بہتر بنائے جاسکتے ہیں۔ حکومت اور آجروں کے درمیان تعاون اس مقصد کے لیے اہم ہے۔

صوبائی وزیر نے امید ظاہر کی کہ ایوارڈ حاصل کرنے والی کمپنیاں اپنے تجربات دوسری صنعتوں کے ساتھ شیئر کریں گی۔ اس سے پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت کے مؤثر طریقوں کو مزید فروغ مل سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں میں۔

تقریب سے ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے صدر مجید وزیر، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر گیرتھ تھامس ٹونسٹول اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپینگ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

تقریب میں سیکریٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ سعید غنی نے پاکستان میں باعزت روزگار، پیشہ ورانہ تحفظ اور ذمہ دارانہ کاروباری طریقوں کے فروغ میں ILO کے کردار کو بھی سراہا۔

One thought on “لیبر قوانین سعید غنی کا صنعتی اداروں میں حفاظتی اقدامات سخت کرنے پر زور”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!