کراچی پولیس میں تنازع شدت اختیار کرگیا، ڈی ایس پی زخمی، اہلکاروں کو تحویل میں لینے کے دعوے

نارتھ ناظم آباد میں نوجوان کی مبینہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے معاملے پر ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس اور ایس آئی یو صدر کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کشیدگی کے دوران ڈی ایس پی شادمان کے سر پر چوٹ آئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان کی مبینہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں ملوث ملزمان کی لوکیشن پر دونوں پولیس ٹیمیں پہنچیں۔ بعد ازاں تیموریہ پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

ملزمان کی تحویل پر تنازع

پولیس ذرائع کے مطابق ایس آئی یو صدر کی ٹیم نے ملزمان کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس سے رابطہ کیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس کے بجائے مبینہ طور پر دھاوا بولا گیا، جس سے تنازع بڑھ گیا۔

اس دوران بعض پولیس افسران اور اہلکاروں کو تحویل میں لینے کے دعوے بھی سامنے آئے۔ اطلاعات کے مطابق ڈی ایس پی منہاج، اے ایس آئی راحیل قریشی اور اہلکار اسد کو ایس آئی یو صدر منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے ایس آئی یو کی پولیس موبائل کو افسران اور اہلکاروں سمیت ناظم آباد تھانے منتقل کردیا۔

ناظم آباد تھانے میں مذاکرات

پولیس ذرائع کے مطابق ایس آئی یو کے ایڈمن ارشد جنجوعہ، ایس ایچ او ممتاز مہر اور دیگر اہلکاروں کو بھی ناظم آباد تھانے منتقل کیا گیا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈی ایس پی منہاج کے سر پر چوٹ آئی، تاہم انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ واقعے کے بعد ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کی بھاری نفری رات گئے ناظم آباد تھانے پہنچ گئی۔

اس دوران ایس آئی یو صدر کے ڈی ایس پی ایڈمن ارشد جنجوعہ اور ڈی ایس پی نسیم کمال کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔

ایس آئی یو کا مؤقف

ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومرو سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم رابطہ نہ ہوسکا۔

دوسری جانب ایس آئی یو صدر کے ایس ایچ او ممتاز مہر نے ان اطلاعات کو قیاس آرائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے میں کوئی صداقت نہیں۔

واقعے پر پولیس حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ نوجوان کی مبینہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے مقدمے کی مزید تفصیلات بھی تاحال سامنے نہیں آئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!