سرمایہ کاری فراڈ کیس: نیب کو 2 ہفتوں میں تحقیقات کی پیشرفت بتانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے سرمایہ کاری فراڈ کیس میں نیب کو دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔

سماعت کے دوران ڈی جی نیب کراچی عدالتی حکم پر پیش ہوئے۔ نیب کی پراسیکیوٹر صدف راجپوت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ نیب کے قانونی دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔ اسی وجہ سے نیب نے کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو منتقل کردیا تھا۔

نیب تحقیقات کے لیے تیار

پراسیکیوٹر صدف راجپوت نے کہا کہ درخواست گزار نیب سے تحقیقات چاہتے ہیں تو ادارہ عدالتی حکم پر کارروائی کے لیے تیار ہے۔

عدالت نے ڈی جی نیب کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے سے استثنیٰ دے دیا۔ بینچ نے درخواست گزاروں کو تمام شواہد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

عدالت نے نیب سے دو ہفتوں میں تحقیقات کی پیشرفت پر رپورٹ طلب کرلی۔ اس کے بعد سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

ایک ہزار سے زائد شہریوں سے فراڈ کا الزام

درخواست گزاروں کے مطابق سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر ایک ہزار سے زائد شہریوں سے 15 ارب روپے سے زیادہ کا مبینہ فراڈ کیا گیا۔

درخواست گزاروں نے کیس ایف آئی اے کو منتقل کرنے پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا الزام ہے کہ نیب نے مبینہ فراڈ کی رقم کا تخمینہ کم لگایا۔ ان کے مطابق نیب نے تحقیقات بھی ایف آئی اے کے سپرد کردیں۔

درخواست گزاروں نے اس معاملے پر ڈی جی نیب، چیئرمین نیب اور دیگر حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!