...

ماڈل کالونی میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات، 50 سے زائد مقامات پر کام جاری

ضلع کورنگی کے علاقے ماڈل کالونی میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق علاقے میں اس وقت 50 سے زائد مقامات پر مبینہ طور پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض رہائشی پلاٹس پر منظور شدہ نقشوں کے برخلاف تعمیرات کی جارہی ہیں۔ ان تعمیرات سے علاقے کی شہری منصوبہ بندی اور بنیادی سہولتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

SBCA سے فوری کارروائی کا مطالبہ

شہریوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماڈل کالونی میں جاری تعمیرات کا ریکارڈ چیک کیا جائے۔ منظور شدہ نقشوں اور موقع پر موجود تعمیرات کا بھی موازنہ کیا جائے۔

شہریوں کے مطابق خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار بلڈرز، مالکان اور متعلقہ افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

مختلف پلاٹس پر تعمیرات کی شکایات

ذرائع کے مطابق جن پلاٹس پر تعمیراتی خلاف ورزیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں، ان میں درج ذیل شامل ہیں:

Sheet No. 14، Plot No. 3-4/7، Model Colony

Plot No. 36/14، Liaquat Avenue، Model Colony

Sheet No. 5، Plot No. 116/5، Model Colony

Sheet No. 5، Plot No. 12، Model Colony

Plot No. 44، Model Colony

Sheet No. 6، Plot No. 189، Model Colony

Sheet No. 5، Plot No. 70، Model Colony

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان سمیت دیگر پلاٹس پر منظور شدہ نقشوں اور تعمیراتی اجازت ناموں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

افسر کے کردار پر بھی سوالات

ذرائع نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماڈل کالونی عمران رمضان کی نگرانی میں مبینہ تعمیرات جاری رہنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ذرائع نے بعض تعمیرات کے حوالے سے مبینہ مالی معاملات کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ بعض پلاٹس کے لیے لاکھوں روپے کے مبینہ پیکیج طے ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

ان الزامات کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

متعلقہ افسر کا مؤقف بھی خبر کی اشاعت کے وقت سامنے نہیں آسکا۔

شہری سہولتوں پر دباؤ کا خدشہ

علاقہ مکینوں کے مطابق بے ہنگم تعمیرات سے ماڈل کالونی کا انفراسٹرکچر متاثر ہوسکتا ہے۔

اضافی منزلوں اور غیر منظور شدہ تعمیرات سے سڑکوں اور پارکنگ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

پانی، سیوریج اور بجلی کی سہولتیں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کی بروقت نشاندہی کی جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی بھی کی جائے۔

SBCA پہلے بھی زیرِ سوال رہا ہے

کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر SBCA پہلے بھی تنقید کی زد میں رہا ہے۔

جون 2026 میں سندھ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ نے غیر قانونی اور خطرناک عمارتوں کے خلاف کارروائی سے متعلق SBCA کی رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ حکام نے رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مزید تفصیلات طلب کی تھیں۔

جولائی 2026 میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بھی کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور ہاؤسنگ اسکیموں کا معاملہ زیر بحث آیا۔ SBCA حکام نے 58 غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی نشاندہی سے متعلق بریفنگ دی تھی۔

اپریل 2026 کی رپورٹنگ میں بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں منظور شدہ نقشوں کے برخلاف اضافی منزلوں اور دیگر تعمیراتی خلاف ورزیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں۔

شفاف انکوائری کا مطالبہ

شہریوں نے وزیر بلدیات سندھ، ڈی جی SBCA، ایڈیشنل ڈی جی آپریشنز اور متعلقہ ڈائریکٹر کورنگی سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تمام شکایات والے پلاٹس کا ریکارڈ حاصل کیا جائے۔ منظور شدہ بلڈنگ پلان اور تعمیرات کا موقع پر معائنہ بھی کیا جائے۔

شہریوں نے متعلقہ افسران کے کردار کی غیر جانب دارانہ انکوائری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.