ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارتی فوج کے ایک دعوے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جس پاکستانی شہری کو مقبوضہ کشمیر میں مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا، وہ زندہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ کے دوران محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی جانب سے ایک کارروائی میں ایک شخص کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
بھارتی فوج کے دعوے کی تفصیلات
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق 29 ستمبر کی رات بھارتی فوج کے چنار کور نے ایک سرچ آپریشن سے متعلق بیان جاری کیا۔
بھارتی فوج نے کارروائی میں ایک مبینہ دہشت گرد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد 30 ستمبر کو بھارتی فوج نے ہلاک شخص کی شناخت محمد آصف الیاس کے نام سے کرنے کا دعویٰ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی میڈیا اور حکام نے بعد میں اس شخص کو پاکستان سے منسلک کرنے کے دعوے بھی کیے۔
ان کے مطابق بھارتی دعوے میں محمد آصف کو ایس ایس جی کا حوالدار بھی قرار دیا گیا۔
محمد آصف میڈیا کے سامنے آگئے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بریفنگ کے دوران محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔
محمد آصف نے بتایا کہ وہ 2008 میں پاک فوج میں شامل ہوئے تھے۔ وہ 2023 میں ایس ایس جی سے ریٹائر ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک نجی سیکیورٹی کمپنی میں کام کررہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اس وقت راولپنڈی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔
محمد آصف نے کہا کہ دوستوں نے انہیں فون کرکے بھارتی دعوے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر بھی ان کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ زندہ ہیں اور وطن کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ محمد آصف نے بھارتی دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
بھارتی بیانات میں تضاد کا دعویٰ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج اور حکومت کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات میں تضاد موجود ہے۔
انہوں نے بھارتی دعوے کے حوالے سے مختلف ناموں اور شناختوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایک طرف محمد آصف کی شناخت بتائی گئی، جبکہ دوسری جانب مختلف نام استعمال کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی کارروائی کو مبینہ فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر بھارتی دعووں کا جواب دے گا۔
بھارت کو ردعمل سے متعلق انتباہ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی مہم جوئی کی تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
سیاست اور پی ٹی آئی لانگ مارچ پر مؤقف
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات پر حکومت ہی جواب دے سکتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ریاست کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے استحکام کے بغیر سیاست اور جمہوریت کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔