...

اے کے ہنگل کی خودنوشت ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟‘‘ کی تقریبِ رونمائی

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف بھارتی اداکار اے کے ہنگل کی خودنوشت ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔

تقریب حسینہ معین ہال، احمد شاہ بلڈنگ میں ہوئی۔ صدارت مہناز رحمٰن نے کی۔ محمد احمد شاہ، معراج جامی، مظہر عباس، وسعت اللہ خان، سجاد ظہیر سولنگی، جان محمد بلوچ، اقبال رحمان مانڈویا اور صہیب علوی نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

کتاب کی ترتیب اور ترجمہ انور اقبال نے کیا۔ تقریب کی نظامت شکیل خان نے انجام دی۔ آغاز میں اے کے ہنگل کی زندگی اور فنی سفر پر مبنی شو ریل بھی پیش کی گئی۔

اے کے ہنگل صرف اداکار نہیں تھے، مہناز رحمٰن

مہناز رحمٰن نے کہا کہ اے کے ہنگل صرف ایک عظیم اداکار نہیں تھے بلکہ ترقی پسند اور انقلابی نسل کی نمائندگی کرتے تھے۔

ان کے مطابق اس نسل نے معاشرے کو بدلنے کے خواب دیکھے۔ اس نے ادب، تھیٹر، موسیقی اور سینما کے ذریعے اپنے خیالات کو آگے بڑھایا۔

مہناز رحمٰن نے کہا کہ ہنگل سمیت ترقی پسند فنکار فن کو محض تفریح نہیں سمجھتے تھے۔ وہ اسے غریبوں، محنت کشوں اور مظلوم طبقات کی آواز بھی سمجھتے تھے۔

ان کے مطابق کتاب صرف اے کے ہنگل کی زندگی بیان نہیں کرتی۔ یہ ایک پوری ترقی پسند نسل کو یاد کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

محمد احمد شاہ نے کتاب کو اہم کاوش قرار دے دیا

آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے انور اقبال کی کاوش کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں ہنگل کی زندگی اور جدوجہد کو سادہ زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

محمد احمد شاہ نے کہا کہ فلم ’’شعلے‘‘ میں ہنگل کا مختصر کردار آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ ان کا مکالمہ ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟‘‘ ان کی اداکاری کی پہچان بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کتابیں ان شخصیات اور تاریخ کے ان پہلوؤں کو زندہ کرتی ہیں جنہیں وقت کے ساتھ لوگ بھولتے جا رہے ہیں۔

ہنگل کی شناخت عوامی تھیٹر سے بھی جڑی تھی

صحافی مظہر عباس نے کہا کہ یہ کتاب بائیں بازو کی شخصیات پر لکھی گئی دیگر کتابوں سے مختلف ہے۔

ان کے مطابق کتاب میں ہنگل کے سیاسی نظریات کے ساتھ سماجی اور معاشی زندگی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میں ان کی ذاتی زندگی، خاندان اور نظریاتی جدوجہد کا ذکر بھی ملتا ہے۔

وسعت اللہ خان نے کہا کہ لوگ عام طور پر اے کے ہنگل کو فلم ’’شعلے‘‘ کے رحیم چاچا کے کردار سے جانتے ہیں۔ تاہم ان کی اصل شناخت عوامی تھیٹر، سیاسی شعور اور عوام دوستی سے بھی جڑی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ہنگل بائیں بازو کی سیاسی سوچ، ٹریڈ یونین اور عوامی تھیٹر کی تحریک سے وابستہ رہے۔

کتاب میں کراچی اور برصغیر کی تاریخ بھی

دیگر مقررین نے بھی کتاب کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ جان محمد بلوچ نے کہا کہ کتاب میں مزدور تحریک، ظلم کے خلاف جدوجہد اور سیاسی شعور کو نمایاں کیا گیا ہے۔

سجاد ظہیر سولنگی نے کراچی میں بائیں بازو کی سیاسی تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے کے ہنگل کی سوانح ان کے سیاسی نظریات اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد سے وابستگی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اقبال رحمان مانڈویا نے کہا کہ کتاب صرف ایک شخصیت کی خودنوشت نہیں۔ اس کے ذریعے ایک پورا عہد، تہذیب اور برصغیر کی تاریخ بھی سامنے آتی ہے۔

صہیب علوی نے کہا کہ انور اقبال نے ہنگل کی زندگی کے ساتھ کراچی، پشاور اور پاکستان کے سماجی و ثقافتی حالات کو بھی کتاب میں جگہ دی ہے۔

انور اقبال: ہنگل کی انسان دوستی نے متاثر کیا

کتاب کے مترجم انور اقبال نے بتایا کہ اے کے ہنگل کے بارے میں تحقیق کے دوران انہیں ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو جاننے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ ہنگل سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، بچپن پشاور میں گزارا اور جوانی کے ابتدائی دن کراچی میں گزارے۔

انور اقبال کے مطابق ہنگل کی زندگی میں انسانیت کا پہلو انہیں خاص طور پر متاثر کرتا رہا۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے کتاب کا ترجمہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟‘‘ کو اتنی پذیرائی ملے گی۔

انور اقبال نے کہا کہ ان کی اگلی کتاب ’’کرچی کرچی کراچی کا کتابی چہرہ‘‘ کے عنوان سے ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.