اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو قرآن مجید اور حضرت محمد ﷺ کی صورت میں عظیم نعمتیں عطا فرمائیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اس نے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا اور انہی میں سے ایک عظمت والے رسول ﷺ بھیجے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی آیات سنائیں، لوگوں کے نفوس پاک کیے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دی۔
حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی سیرت، اوصاف اور تعلیمات پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر آپ ﷺ کے فضائل، اوصاف اور بعثت کے مقاصد بیان کیے ہیں۔
عالمگیر رسالت
رسول اکرم ﷺ سے پہلے آنے والے انبیائے کرام مخصوص قوموں اور علاقوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کسی ایک قوم یا خطے تک محدود نہیں رہی۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ ﷺ کو پوری انسانیت کے لیے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے کہ آپ ﷺ تمام لوگوں کی طرف اللہ کے رسول ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔ اس طرح آپ ﷺ کی رسالت پوری انسانیت کے لیے ہے۔
ختمِ نبوت
حضرت محمد ﷺ کی ایک بڑی شان ختمِ نبوت ہے۔ قرآن مجید میں آپ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے۔
سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے خاتم ہیں۔ اس کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اپنی مثال ایک خوبصورت عمارت سے دی۔ اس عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آخری اینٹ ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔
ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
رسول اکرم ﷺ کے اوصاف
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول اکرم ﷺ کے متعدد اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ ان میں شاہد، مبشر، نذیر، داعی الی اللہ اور سراجِ منیر شامل ہیں۔
شاہد کا مطلب گواہ ہے۔ مبشر خوشخبری دینے والے کو کہتے ہیں۔ نذیر کا مطلب اللہ کے عذاب سے خبردار کرنے والا ہے۔
قرآن مجید کے مطابق رسول اکرم ﷺ ایمان والوں کو جنت کی بشارت دیتے تھے۔ آپ ﷺ نافرمانوں کو اللہ کے عذاب سے بھی خبردار کرتے تھے۔
آپ ﷺ کا ایک وصف داعی الی اللہ بھی بیان ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے اللہ کے حکم سے لوگوں کو اس کی طرف بلانے والا۔
خاندانی عظمت
احادیث مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ کے خاندان کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔
حضرت واثلہ بن اسقعؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں حضرت اسماعیلؑ کو منتخب کیا۔ پھر حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں بنی کنانہ کو چنا۔
اس کے بعد بنی کنانہ میں قریش کو فضیلت دی گئی۔ قریش میں بنی ہاشم کو ممتاز کیا گیا۔ پھر بنی ہاشم میں حضرت محمد ﷺ کو نبوت کے لیے منتخب فرمایا گیا۔ یہ روایت صحیح مسلم میں بیان ہوئی ہے۔
بعثتِ نبوی ﷺ کے مقاصد
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر رسول اکرم ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد بیان ہوئے ہیں۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کے بعد ایک رسول کی بعثت کی دعا کی تھی۔ انہوں نے دعا کی کہ وہ رسول لوگوں کو اللہ کی آیات سنائے، کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کو پاک کرے۔
سورۃ الجمعہ میں بھی رسول اکرم ﷺ کی بعثت کے یہی بنیادی مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں اللہ کی آیات کی تلاوت، لوگوں کا تزکیہ اور کتاب و حکمت کی تعلیم شامل ہے۔
سورۃ البقرہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول ﷺ لوگوں کو اس کی آیات سناتے، ان کا تزکیہ کرتے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے انسانوں کو وہ علم بھی دیا جس سے وہ پہلے ناواقف تھے۔
یوں بعثتِ نبوی ﷺ کے بنیادی مقاصد میں قرآن کی تلاوت، قرآن و دین کی تعلیم، حکمت کی تعلیم اور انسانوں کا تزکیہ شامل ہیں۔ یہی تعلیمات انسانی زندگی کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لے جاتی ہیں۔