پمز 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد فائر سیفٹی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہسپتال میں کئی برس سے ایمرجنسی فائر ڈرلز نہیں ہوئیں۔

اس صورتحال نے طبی عملے کی عملی تربیت پر بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عملے کو آگ لگنے کی صورت میں فوری اقدامات کی تربیت نہیں ملی۔

مریضوں کے انخلا اور عملے کی حفاظت کے لیے بھی عملی مشقیں نہیں کرائی گئیں۔

فائر سیفٹی مشقوں کا مقصد ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کی تربیت دینا ہے۔

ان مشقوں کے ذریعے مریضوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ہسپتالوں میں ہر چھ ماہ بعد فائر سیفٹی تربیت ہونی چاہیے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ آکسیجن سلنڈرز نے آگ کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔

ہسپتال کے بعض ایمرجنسی اور خارجی دروازے بھی مبینہ طور پر بند تھے۔

ذرائع کے مطابق ایمرجنسی کے دوران الارم سسٹم بھی فوری طور پر فعال نہیں ہوا۔

اس صورتحال نے ہسپتال کے ہنگامی حفاظتی نظام پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پمز اسلام آباد کا ایک بڑا سرکاری ہسپتال ہے۔

یہاں مختلف شعبوں میں بڑی تعداد میں مریض زیر علاج رہتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامی انخلا کے لیے مؤثر منصوبہ موجود نہیں۔

اس منصوبے میں مریضوں اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقام تک منتقل کرنا شامل ہونا چاہیے۔

14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد فائر سیفٹی انتظامات کے جائزے کا مطالبہ بڑھ گیا ہے۔

جائزے میں ہنگامی اخراج کے راستوں اور الارم سسٹم کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

عملے کی فائر سیفٹی تربیت اور باقاعدہ مشقوں کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!