کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد سکھر کو پیاسا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو صاف، محفوظ اور بلا تعطل پینے کا پانی فراہم کرے۔
8 نومبر 2026 کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں سکھر واٹر سپلائی پروجیکٹ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری قاسم نوید، میئر سکھر ارسلان شیخ اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
سکھر میں 50 ملین گیلن پانی صاف کرنے کا منصوبہ
اجلاس میں سکھر کے لیے روزانہ 40 سے 50 ملین گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت کا نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ منصوبے کی گنجائش اور سرمایہ کاری کا تعین پانی کی حقیقی طلب کے مطابق کیا جائے۔ انہوں نے مستند اعداد و شمار اور مضبوط تکنیکی منصوبہ بندی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سکھر کی آبادی میں 1998 سے 2023 کے دوران تقریباً 68 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری پھیلاؤ کے باعث جدید نظام آب رسانی کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سکھر کے موجودہ اور مستقبل کے پانی کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے۔ حکومت عوام کو درپیش پانی کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔
پانی کی فراہمی 90 فیصد تک بڑھانے کی توقع
اجلاس میں بتایا گیا کہ سکھر کا موجودہ نظام پانی کی 60 سے 70 فیصد ضروریات پوری کر رہا ہے۔
2 ارب 14 کروڑ روپے کی جاری ترقیاتی اسکیم سے پانی کی فراہمی کا دائرہ 80 سے 90 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ پانی صاف کرنے کی صلاحیت اور تقسیم کے نظام کو بیک وقت بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف پانی کی پیداوار بڑھانا کافی نہیں۔ پانی شہر کے تمام علاقوں اور گھروں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔
موجودہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بہتری
اجلاس میں سکھر کی موجودہ پانی صاف کرنے والی تنصیبات کو جدید بنانے پر بھی بریفنگ دی گئی۔
منصوبے میں درج ذیل مقامات کی تنصیبات کی بہتری شامل ہے:
-
بکھر جزیرہ
-
بندر روڈ
-
نمائش گاہ
-
ایئرپورٹ روڈ
اس کے علاوہ پانی کی پمپنگ اور تقسیم کے موجودہ نظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق نظام آب رسانی کی مرحلہ وار توسیع کی ہدایت کی۔ انہوں نے منصوبے کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
سکھر کو چین کے شہر یچانگ سے منسلک کرنے کی تجویز
مراد علی شاہ نے سکھر کو چین کے دریائے یانگسی کے کنارے آباد شہر یچانگ کے ساتھ جڑواں شہر بنانے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ چینی شہر یچانگ کے ترقیاتی تجربات سے فائدہ اٹھا کر سکھر کو جدید شہری مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق سکھر کی ترقی اس کے تاریخی تشخص، قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کو مدنظر رکھ کر کی جائے گی۔ سکھر بیراج کی بہتری اور شہر کی ترقی سے جدید شہری سہولیات اور قدرتی حسن کا خوبصورت امتزاج پیدا ہوگا۔
عوامی صحت اور معیاری خدمات اولین ترجیح
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی کا براہ راست تعلق عوامی صحت اور بچوں کی فلاح و بہبود سے ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے میں عوامی مفاد، صارفین کے حقوق اور معیاری خدمات کو اولین ترجیح دی جائے۔
مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں کو باہمی رابطے سے تمام رکاوٹیں دور کرنے اور منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ سکھر کے عوام ایک جدید اور قابلِ اعتماد نظام آب رسانی کے مستحق ہیں۔ سکھر کے شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بہتری لانا پانی فراہمی منصوبے کا بنیادی مقصد ہے۔
ناصر حسین شاہ کا نظام آب رسانی جدید بنانے کا عزم
وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے سکھر میں پانی کی فراہمی کا نظام جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سکھر شہر اور نیو سکھر کی مجموعی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور رہائشی علاقوں کے پھیلاؤ کے باعث پانی کی طلب میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ناصر حسین شاہ کے مطابق محکمہ بلدیات، میئر سکھر اور سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن منصوبے پر مربوط انداز میں کام کریں گے۔
اجلاس میں پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن اور سی ای سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن جتن کمار سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے۔