کراچی میں سردیوں سے پہلے ہی گیس بحران شدت اختیار کر گیا

سردیوں کی آمد سے قبل ہی شہر میں گیس کا بحران شدت اختیار کرنے لگا ہے۔ مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ گیس بندش کے باعث شہریوں کو کھانا پکانے اور روزمرہ امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گھریلو صارفین مہنگی ایل پی جی خریدنے پر بھی مجبور ہوگئے ہیں۔

شہریوں کے مطابق گھروں میں گیس کی فراہمی کا دورانیہ مزید کم ہوگیا ہے۔ اب روزانہ صرف سات سے ساڑھے سات گھنٹے گیس دستیاب ہوتی ہے۔ اس سے قبل گھریلو صارفین کو 10 سے 12 گھنٹے گیس فراہم کی جاتی تھی۔

رات کے اوقات میں بھی گیس کی قلت

شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں اچانک گیس بند ہوجانا معمول بن چکا ہے۔ رات کے اوقات میں بھی بمشکل دو گھنٹے گیس ملتی ہے، جس سے کھانا پکانے سمیت دیگر گھریلو کام متاثر ہورہے ہیں۔

صارفین نے شکایت کی کہ ایک طرف انہیں گیس کے بل باقاعدگی سے ادا کرنا پڑتے ہیں، جبکہ دوسری جانب کھانا پکانے کے لیے مہنگی ایل پی جی خریدنا بھی مجبوری بن گیا ہے۔

شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گھریلو صارفین کو گیس فراہم نہیں کی جاسکتی تو کنکشن برقرار رکھنے کا کیا فائدہ ہے؟

سوئی سدرن کا مؤقف

شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پانی کی قلت کے باعث اسے خرید کر استعمال کرنا پڑتا تھا۔ اب گیس کی فراہمی متاثر ہونے سے کھانا پکانے کے لیے بھی متبادل ایندھن خریدنے کی نوبت آگئی ہے۔

دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی سے متعلق کوئی نیا شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کمپنی کی ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے کے باوجود انہیں گیس بندش کے کسی شیڈول سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔ صارفین کے مطابق کسی طے شدہ شیڈول کے بغیر گیس کی بندش کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سردیوں کی آمد سے قبل گھریلو صارفین کو گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!