سندھ حکومت نے دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے اور مویشیوں کی بہتر نسل تیار کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل سائنس میں ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کا پہلا تجربہ کامیاب رہا ہے۔
وزیر لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو کامیاب تجربے کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے لائیو اسٹاک کے شعبے میں اس پیش رفت پر مبارک باد دی۔
ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کا منصوبہ
یہ سنگ میل سندھ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ اور فون گرو کے اشتراک سے حاصل کیا گیا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اعلیٰ نسل کے مویشی کم وقت میں تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق مویشیوں کی نسل بہتر بنانے کا 30 سالہ عمل اب صرف پانچ سال میں مکمل کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں مویشیوں کی افزائش کے لیے جدید سائنسی دور کا آغاز ہو گیا ہے۔
222 ایمبریوز کے آرڈر
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ریڈ سندھی اور گوزیرا نسل کے 132 ایمبریوز کا آرڈر دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے بھی 90 ایمبریوز کا آرڈر دیا ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق کسانوں کا اعتماد اس منصوبے کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا ہدف
وزیر لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی نے کہا کہ سندھ کی مقامی ریڈ سندھی اور گوزیرا نسل کو جدید سائنسی طریقوں سے مزید بہتر بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے مویشی پالنے والے کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت لائیو اسٹاک کے شعبے میں جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہی ہے۔ بہتر نسل کے مویشیوں سے دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے سندھ کے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سے ملک میں دودھ اور گوشت کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق لائیو اسٹاک کے شعبے میں ترقی سندھ کی معیشت کو مضبوط بنانے اور دودھ و گوشت کی پیداوار میں خودکفالت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔