وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ موجودہ سرکاری نظام مزید نہیں چل سکتا۔ نئے انتظامی یونٹس کے قیام میں جتنی تاخیر ہوگی، ملک کو اتنا ہی نقصان پہنچے گا۔
کراچی کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، اسی وجہ سے مخالفین کے لہجے سخت ہو رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے اعتراف کیا کہ کراچی کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے مسائل کے لیے فریاد کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کراچی کے شہری آمدن پیدا کرتے ہیں، لیکن پھر بھی وفاق سے وسائل مانگنے پڑتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موجودہ انتظامی ماڈل کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ ملک کو چلانے اور بچانے کے لیے نظام میں تبدیلی ضروری ہے۔
کراچی کے ٹیکس اور وسائل کا معاملہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد کی بیوروکریسی کراچی کے لوگوں کی آمد سے خوش نہیں ہوتی۔ انہوں نے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کی۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق، اگر وفاق سیلز ٹیکس کی رقم کراچی کو براہ راست دیتا تو یہ رقم 230 ارب روپے بنتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 190 ارب روپے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ رقم شہر کے بنیادی ڈھانچے پر خرچ ہونی چاہیے۔
انہوں نے مردم شماری کے اعداد و شمار پر بھی اعتراض اٹھایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مردم شماری میں بے ضابطگیوں کے ذریعے کراچی کی آبادی کم ظاہر کی گئی۔
وزیر صحت نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ تھی۔ ان کے مطابق، 2023 کی مردم شماری میں یہ تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ درج ہوئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سندھ حکومت نے چھ سال میں کراچی کی آبادی 30 لاکھ کم کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت شہر کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، ایسے میں بنیادی سہولیات کیسے فراہم ہوں گی؟
کراچی کے لیے مالی وسائل سے متعلق دعوے
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی ملک کی 54 فیصد برآمدات میں حصہ ڈالتا ہے۔ اس کے باوجود برآمد کنندگان کو اسلام آباد جانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دودھ دینے والی گائے کو چارہ اور پانی بھی دینا چاہیے۔ ان کے مطابق، آکٹرائے کے نظام میں سیلز ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد بڑھا کر اضلاع کو براہ راست رقم دینے کا انتظام کیا گیا تھا۔
وزیر صحت نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے دو ٹیکسوں سے سالانہ 884 ارب روپے حاصل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، 16 برس میں یہ رقم تقریباً 3 ہزار ارب روپے بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 190 ارب روپے بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کراچی کے وسائل این ایف سی میں شامل کرلیے جاتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق، اس سال این ایف سی میں کراچی کا حصہ 884 ارب روپے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 سے حساب لگایا جائے تو یہ رقم 3 ہزار ارب روپے تک پہنچتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 16 سال پہلے شہر پر خرچ کیے گئے 300 ارب روپے کا آج بھی ذکر ہوتا ہے۔ اگر 3 ہزار ارب روپے کراچی پر خرچ ہوتے تو شہر کی صورتحال مختلف ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا نظام متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے پاکستان پر پڑتے ہیں۔
سندھ کو ملنے والے فنڈز اور ترقیاتی منصوبے
وفاقی وزیر نے کہا کہ وسائل کی کمی نہیں۔ ان کے مطابق، اس سال صوبوں کو 8 ہزار 884 ارب روپے ملے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ کو 17 برس میں 22 ارب روپے ملے ہیں۔ تاہم، خطاب میں اس رقم کی مد اور تفصیل واضح نہیں کی گئی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دستیاب فنڈز سے سندھ کو کئی مرتبہ دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کراچی حیدرآباد نئی موٹروے اسی سال تعمیر ہونے کی توقع ظاہر کی۔ ان کے مطابق، ناردرن بائی پاس کو بھی دوہرا کیا جا رہا ہے۔
ادویات کی رجسٹریشن اور جعلی دواؤں کے خلاف اقدامات
وزیر صحت نے کہا کہ ڈریپ کو ڈیجیٹل کرنے سے ادویات کی آن لائن رجسٹریشن کا عمل تیز ہوا ہے۔ ان کے مطابق، اب 21 دن میں ادویات کی رجسٹریشن ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت صحت کے ڈیٹا بینک میں 86 ہزار ادویات کا ریکارڈ جمع کرلیا گیا ہے۔ جعلی ادویات کی شناخت کے لیے ایک موبائل ایپ بھی تیار کی جا رہی ہے۔ اسے نومبر میں متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کینسر کی ایک دوا کی قیمت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق، دوا کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے تھی۔ قیمت بڑھا کر دو لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ قیمت نہ بڑھانے کے باعث دوا مارکیٹ سے غائب ہوگئی۔ اب مریض ایجنٹوں کے ذریعے یہی دوا ساڑھے چار لاکھ روپے میں خرید رہے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ موجودہ سرکاری نظام نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق، نئے انتظامی یونٹس کے قیام میں تاخیر ملک کے لیے مزید نقصان کا باعث بنے گی۔
I don’t even understand how I finished up right here,
however I assumed this post used to be great. I do not recognise who you’re but definitely
you’re going to a well-known blogger in the event you
are not already. Cheers!
I like the efforts you have put in this, regards for all the great content.
I really like reading through a post that can make men and women think. Also, thank you for allowing me to comment!