کراچی کے علاقے کلفٹن میں نہر خیام پر جاری متنازع تعمیرات کو جماعت اسلامی نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
درخواست بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں محکمہ لوکل گورنمنٹ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)، سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) اور دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
نہر خیام میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر
آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نہر خیام پر کمرشل سرگرمیاں شروع کی جارہی ہیں۔ اس سے بارشوں کے دوران قریبی رہائشی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق نالے کا راستہ تنگ ہونے سے بارش کا پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوسکتا ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نہر خیام کے اصل بہاؤ، چوڑائی اور حدود میں مداخلت کی جارہی ہے۔ ماحولیاتی جائزہ لیے بغیر تعمیراتی کام شروع کیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ تعمیرات کا پی سی ون، ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) یا منظور شدہ منصوبہ پیش نہیں کیا جارہا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ کے تقاضوں کے بھی خلاف ہیں۔
تعمیرات مسمار کرنے اور نالہ بحال کرنے کی استدعا
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نہر خیام پر جاری مبینہ غیرقانونی تعمیرات اور ڈھانچے مسمار کیے جائیں۔
اس کے علاوہ غیرقانونی کمرشل سرگرمیاں روکنے اور برساتی نالے کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق 1982 کے منظور شدہ ماسٹر پلان کے برعکس نالے کی چوڑائی کم کرنا غیرقانونی ہے۔
منعم ظفر کا تعمیراتی کام پر تحفظات کا اظہار
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نہر خیام پر جاری کام پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ پوری سندھ حکومت اس معاملے پر پریشان دکھائی دیتی ہے۔ کبھی وزیراعلیٰ سندھ اور کبھی ناصر حسین شاہ نہر خیام کا دورہ کررہے ہیں۔
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ یہاں کام کی رفتار اتنی تیز ہے کہ ریڈ لائن منصوبے پر بھی اس رفتار سے کام نہیں ہوا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہر خیام پر جاری کام کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ کنٹریکٹر، پی سی ون اور منصوبے کی دیگر تفصیلات بھی بتائی جائیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے الزام لگایا کہ سیوریج کا پانی سمندر میں جارہا ہے اور پوری نہر کو مبینہ طور پر چائنا کٹنگ کے حوالے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس معاملے کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔