کراچی کے علاقے ناظم آباد میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوار نوجوان شوریم زخمی ہوگیا۔ اہل خانہ کے مطابق، پولیس اہلکار اسے عباسی شہید اسپتال چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد میں نوجوان کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہے۔
زخمی نوجوان کے بیان کے مطابق، وہ رات کے وقت ایک گلی سے موٹر سائیکل پر گزر رہا تھا۔ اسی دوران اسے پیچھے سے 125 موٹر سائیکل کی آواز سنائی دی۔ شوریم نے خوف کے باعث موٹر سائیکل کی رفتار بڑھانے کی کوشش کی۔ اس پر پیچھے آنے والے پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کردی۔ ایک گولی اس کی پیٹھ میں لگی۔
زخمی نوجوان نے کیا بتایا؟
ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والے بیان میں شوریم نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اسے زخمی حالت میں اپنی موٹر سائیکل پر بٹھایا۔ اس کے مطابق، اہلکاروں نے کسی کو فون کرکے بتایا کہ انہوں نے ڈاکو پکڑ لیا ہے۔
شوریم نے الزام لگایا کہ اہلکاروں نے اس پر اسلحہ پھینکنے کا الزام بھی عائد کیا۔ بعد میں وہ اسے عباسی شہید اسپتال چھوڑ کر چلے گئے۔
کزن کا پولیس اہلکاروں پر الزام
شوریم کے کزن محمد طیب نے جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ناظم آباد نمبر 3 کے رہائشی ہیں۔ واقعے کے وقت وہ شوریم کے ساتھ موٹر سائیکل کا کام کروا رہے تھے۔
طیب کے مطابق، ناظم آباد نمبر 2 کے قریب پولیس اہلکار پیچھے سے آئے اور تین فائر کیے۔ ان میں سے دو گولیاں ان کی ٹانگوں کے قریب سے گزریں، جبکہ ایک گولی شوریم کو لگی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار شوریم کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گئے۔ محلے کے لوگ جمع ہوئے تو انہوں نے اہلکاروں کو بتایا کہ دونوں نوجوان ڈاکو نہیں بلکہ علاقے کے رہائشی ہیں۔
طیب نے مزید الزام لگایا کہ پولیس اہلکار ان کی موٹر سائیکل اور موبائل فون بھی لے گئے۔
والدہ کی اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل
شوریم کی والدہ نے جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں فون پر بیٹے کو گولی لگنے کی اطلاع ملی تھی۔
ان کے مطابق، شوریم ان کا اکلوتا بیٹا اور گھر کا واحد کفیل ہے۔ وہ سرینا موبائل مارکیٹ میں دکان چلاتا ہے اور اس کی شادی بھی جلد ہونے والی تھی۔
والدہ نے بتایا کہ گولی شوریم کی پیٹھ میں لگی ہے اور وہ جناح اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد کسی پولیس افسر نے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے آئی جی سندھ، وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
واقعے سے متعلق پولیس کا مؤقف اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔