سندھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کراچی کے تمام ٹاؤنز سے روڈ کٹنگ کی مد میں موصول ہونے والی رقوم کی تفصیلات طلب کرلیں۔
کمیٹی نے ان رقوم کے استعمال کی تفصیلات بھی مانگ لی ہیں۔ محکمہ بلدیات کو ٹاؤنز کے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کے لیے مؤثر نظام بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جناح ٹاؤن کو 80 کروڑ روپے موصول
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں محکمہ بلدیات کے افسران اور مختلف ٹاؤنز کے میونسپل کمشنرز شریک ہوئے۔
اجلاس میں جناح ٹاؤن کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ نثار کھوڑو نے ٹاؤن افسران سے ترقیاتی کاموں اور این آئی ٹیز سے متعلق تفصیلات دریافت کیں۔
جناح ٹاؤن کے میونسپل کمشنر نے بتایا کہ روڈ کٹنگ کی مد میں ٹاؤن کو 80 کروڑ روپے موصول ہوئے۔
ان کے مطابق سڑکوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے 30 کروڑ روپے کی این آئی ٹیز کرائی گئی ہیں۔
نثار کھوڑو نے ان اسکیموں کی مکمل فہرست طلب کرلی۔
تمام ٹاؤنز کی رقم کا ریکارڈ طلب
پی اے سی نے سوئی سدرن گیس اور دیگر اداروں سے کراچی کے ٹاؤنز کو ملنے والی روڈ کٹنگ کی رقم کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ ہر ٹاؤن کو موصول ہونے والی رقم اور اس کے استعمال کی مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔
محکمہ بلدیات کے افسران اجلاس میں ان رقوم کے استعمال کا مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کرسکے۔
19 لاکھ روپے کے گٹر کے ڈھکن زیر بحث
اجلاس میں جناح ٹاؤن کی جانب سے گٹر کے ڈھکنوں کی خریداری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
میونسپل کمشنر کے مطابق چار کوٹیشنز کے ذریعے مجموعی طور پر 19 لاکھ روپے کے گٹر کے ڈھکن خریدے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ فی ڈھکن 5 ہزار روپے ادا کیے گئے۔ یہ ڈھکن یونین کمیٹی 5، 7 اور 8 میں نصب کیے گئے۔
نثار کھوڑو نے گٹر کے ڈھکنوں کی تعداد، قیمت اور تنصیب کے مقامات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
پی اے سی چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ اگر ٹاؤنز گٹر کے ڈھکن خرید رہے ہیں تو پھر کھلے گٹروں کے واقعات کیوں پیش آرہے ہیں۔