میلاد مصطفیؐ کے انتظامات، سیکیورٹی اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے پاکستان سنی تحریک کے نائب سربراہ محمد شاہد غوری نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف سے ملاقات کی، جس میں میلاد النبی ﷺ کے اجتماعات اور جلوسوں سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران محمد شاہد غوری نے مطالبہ کیا کہ حکومت ملک بھر میں 12 ربیع الاول کے ساتھ 11 ربیع الاول کو بھی عام تعطیل کا اعلان کرے اور میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں اور تقریبات کے لیے خصوصی سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق آئین پاکستان تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے، جبکہ فرقہ واریت، لسانیت اور گروہ بندی نے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اس موقع پر کہا کہ میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں اور دیگر مذہبی تقریبات کے لیے حکومت سیکیورٹی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 11 ربیع الاول کو عام تعطیل دینے کی تجویز حکومت کے سامنے پیش کی جائے گی۔
سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے اور پاکستان میں اقلیتوں کو آئین کے مطابق مکمل تحفظ اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد ناگزیر ہے۔
ملاقات میں پاکستان سنی تحریک کے مرکزی رہنما محمد زاہد حبیب قادری، علامہ صاحبزادہ عطاء الرحمن دھنیال، علامہ اشتیاق صابری، محمد وقاص عباسی، چوہدری بابر جمشید اور دیگر رہنما بھی شریک تھے۔