کراچی: (رپورٹ: محمد عرفان عباسی) ناظم آباد کے مختلف رہائشی علاقوں میں مبینہ طور پر رہائشی پلاٹس پر غیر قانونی کمرشلائزیشن اور دکانوں کے قیام کا سلسلہ جاری ہے، جس پر علاقہ مکینوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عرفات منہاس کا شاندار ڈیبیو، آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے میں تاریخی ریکارڈ قائم
مقامی ذرائع اور شہریوں کے مطابق ناظم آباد نمبر 5 کے پلاٹ نمبر 5A-4/33، ناظم آباد نمبر 3 کے پلاٹ نمبر 3H-12/41 اور ناظم آباد نمبر 5 کے پلاٹ نمبر 5A-1/27 پر رہائشی نوعیت کے پلاٹس کو مبینہ طور پر کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں دکانیں قائم کرنے کے لیے شٹر نصب کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس عمل کے باعث علاقے میں ٹریفک، پارکنگ، سیوریج اور پانی کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں سے فٹ پاتھ اور پیدل چلنے والوں کی گزرگاہیں متاثر ہوتی ہیں جبکہ گاڑیوں کی بے ہنگم پارکنگ ٹریفک کی روانی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو مستقبل میں رہائشی علاقوں کا بنیادی انفراسٹرکچر شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔
شہریوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی، ڈائریکٹر ایس بی سی اے ضلع وسطی، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ مقامات کا فوری معائنہ کیا جائے اور قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ماہرین کے مطابق شہریوں کو کسی بھی جائیداد کی خرید و فروخت سے قبل اس کی قانونی حیثیت، منظور شدہ نقشہ اور این او سی کی مکمل جانچ ضروری کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں قانونی و مالی مشکلات سے بچا جا سکے۔
