کراچی: سندھ کے وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سعید غنی کی زیر صدارت ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے 65 ارب روپے سے زائد سرپلس بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں مزدوروں کی فلاح و بہبود، تعلیم اور سماجی تحفظ کے منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محنت کے چیئرمین ساجد جوکھیو، سیکرٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ سعید صالح جمانی، گورننگ باڈی کے ارکان، مزدور تنظیموں کے نمائندوں اور محکمہ خزانہ و سندھ ریونیو بورڈ کے حکام نے شرکت کی۔
گورننگ باڈی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مجموعی آمدنی کا تخمینہ 85 ارب 374 کروڑ روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 21 ارب 101 کروڑ 97 لاکھ روپے رکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بجٹ سرپلس رہے گا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) سے 15 ارب روپے، ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے بقایاجات کی مد میں 35 ارب روپے، سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا واجبات سے 25 ارب روپے اور بورڈ کی اندرونی آمدنی کی مد میں تقریباً 10 ارب 374 کروڑ روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سیکرٹری سعید صالح جمانی نے اجلاس کو بتایا کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے 17 ارب 500 کروڑ روپے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10 ارب 94 کروڑ روپے اور تعلیم کے شعبے کے لیے 7 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مزدوروں کے لیے ڈیتھ گرانٹ کی مد میں 80 کروڑ روپے، ملازمین کی بیٹیوں کی شادی گرانٹ کے لیے 40 کروڑ روپے، میرٹ اسکالرشپ کے لیے 15 کروڑ روپے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے مزدوروں کے بچوں کے انڈوومنٹ فنڈ کے لیے 200 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تاہم اس سال ای بائیکس اور سلائی مشینوں کی فراہمی کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح مزدوروں کی فلاح و بہبود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں مجموعی اخراجات کم کیے گئے ہیں، تاہم مزدوروں کی فلاح سے متعلق کسی بھی منصوبے کے بجٹ میں کمی نہیں کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی جانب سے دو نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے رقم مختص کی گئی تھی، لیکن حکومت نے یہ تجویز مسترد کر دی تاکہ دستیاب وسائل مزدوروں کی فلاح پر خرچ کیے جا سکیں۔
سعید غنی نے کہا کہ ماضی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہر سال ورکرز ویلفیئر بورڈ اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) سے انکم ٹیکس کی مد میں کٹوتی کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو اس معاملے سے آگاہ کرنے کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر نوید قمر نے وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات میں یہ مسئلہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں نہ صرف سندھ بلکہ تمام صوبوں کے ورکرز ویلفیئر بورڈز اور سیسی کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہو گیا۔
اجلاس کے اختتام پر گورننگ باڈی کے ارکان نے سعید غنی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور سیسی کے ذریعے مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو مزید مؤثر اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔