عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے، جہاں اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
کراچی میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کا بڑا منصوبہ شروع، دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر 48 گھنٹے کے لیے جزوی بندش
دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے دورے پر آنے والے وفد کا استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا۔ اس موقع پر پاکستانی اور ایرانی حکام کے درمیان ابتدائی خیرسگالی ملاقات بھی ہوئی۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ عباس عراقچی اپنے دورے کے دوران پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران علاقائی تعاون اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم سفارتی نکات پر پاکستان کی قیادت سے مشاورت کریں گے۔ دورے کے اختتام پر ایرانی وفد مسقط اور ماسکو بھی روانہ ہوگا، جہاں مزید اعلیٰ سطحی رابطے متوقع ہیں۔
اس سے قبل عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے ان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا حصہ ہیں، اور ان کا مقصد قریبی شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر مسلسل رابطہ برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ امن مذاکرات میں امریکی وفد بھی شریک ہوگا۔ ترجمان کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح مذاکرات کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ پاکستان، ایران اور خطے کے دیگر اہم ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں اور ممکنہ مذاکراتی عمل کا حصہ ہے، جس کے مستقبل میں اہم نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔
