امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ اہم ہے کہ ایران کس نوعیت کی پیشکش سامنے لاتا ہے اور آیا وہ امریکی شرائط کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
سنجے دت کی نئی فلم ’کھل نائیک ریٹرنز‘ کا اعلان، 32 سال بعد پہلی جھلک جاری
برطانوی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے مزید کہا کہ تہران ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ نظر آتا ہے اور امریکا ان افراد سے براہ راست بات چیت کر رہا ہے جو ایران میں فیصلہ سازی کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری سفارتی کوششیں کسی نتیجے تک پہنچ سکتی ہیں، تاہم صورتحال ابھی غیر یقینی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تہران کے خلاف معاشی اقدامات کو مزید سخت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی غیر قانونی تیل تجارت کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایسے تمام نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جائے گا جو ایرانی معیشت کو سہارا فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات "آپریشن اکنامک فیوری” کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ چین میں قائم ایک آئل ریفائنری، تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور متعدد آئل ٹینکرز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پابندیاں ان اداروں اور کمپنیوں پر لگائی گئی ہیں جو ایران کے ساتھ تیل کی تجارت اور ترسیل میں ملوث ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل برآمدات کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات زیر غور ہیں۔
ادھر امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ نے ایک اور ایرانی پرچم بردار جہاز کو روک لیا ہے۔ بیان کے مطابق اس جہاز کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے الزام میں تحویل میں لیا گیا، جو ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق امریکا کی جانب سے بڑھتا ہوا معاشی اور عسکری دباؤ ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کم ہو پاتی ہے یا مزید شدت اختیار کرتی ہے۔
