ایران جنگ میں بھاری اسلحہ استعمال، امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، اخراجات 35 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

واشنگٹن / عالمی رپورٹس: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران کے خلاف جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر مہنگے اور جدید ہتھیاروں کے استعمال سے امریکی فوج کے اسلحہ ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 13.98 فیصد تک پہنچ گئی، ہفتہ وار بنیادوں پر معمولی کمی ریکارڈ

امریکی اخبار The New York Times کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکا نے تقریباً 1100 JASSM-ER (Joint Air-to-Surface Standoff Missile – Extended Range) کروز میزائل استعمال کیے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 11 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ موجودہ ذخیرے میں ان کی تعداد تقریباً 1500 رہ گئی ہے۔

اسی طرح امریکی فوج نے 1000 سے زائد Tomahawk cruise missile بھی داغے، جن کی فی میزائل قیمت تقریباً 36 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ امریکا سالانہ بنیادوں پر تقریباً 100 ٹوماہاک میزائل حاصل کرتا ہے۔

Pentagon کے مطابق جنگ کے دوران 1200 سے زائد Patriot missile system انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے گئے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ 2025 میں ان کی پیداوار تقریباً 600 رہی۔

مزید برآں، امریکا نے 1000 سے زائد ATACMS اور دیگر پریسیژن اسٹرائیک میزائل بھی استعمال کیے، جس سے ان کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی دو دنوں میں ہی تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر ایران جنگ کی لاگت 28 سے 35 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ اخراجات یومیہ ایک ارب ڈالر کے قریب بنتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 38 دنوں کی جنگ کے دوران 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے اکثر متعدد حملے کیے جاتے ہیں، جس سے اصل استعمال شدہ اسلحے کی مقدار کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے باعث امریکا کو ایشیا اور یورپ میں موجود اپنے اسلحہ ذخائر کو مشرق وسطیٰ منتقل کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اس کی عسکری تیاری متاثر ہوئی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے خاص طور پر چین اور روس جیسے ممکنہ حریفوں کے مقابلے میں امریکا کی اسٹریٹجک پوزیشن پر اثر ڈالا ہے، جبکہ طویل المدتی جنگی صلاحیتوں کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

One thought on “ایران جنگ میں بھاری اسلحہ استعمال، امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، اخراجات 35 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!