دوحہ: قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک قطر اور ایران کے درمیان صرف ایک براہ راست رابطہ ہوا ہے، جو کشیدگی کے ابتدائی مرحلے میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان عمل میں آیا تھا۔
سندھ حکومت کا ورک فرام ہوم کا اعلان، اسکول 31 مارچ تک بند
ترجمان نے مزید کہا کہ قطر اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع ابھی تک منقطع نہیں ہوئے اور موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر کو یقین ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
ماجد الانصاری نے بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے امید کی کرن پیدا ہوئی تھی، تاہم اس کے بعد یو اے ای اور بحرین پر مزید حملے شروع ہوئے، جس سے صورتحال مزید نازک ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ قطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ سے متعلق مشترکہ بیان کی تیاری کر رہا تھا، لیکن ایران نے معذرت پر مناسب ردعمل کا موقع فراہم نہیں کیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ قطر موجودہ تنازع کا فریق نہیں ہے، لیکن اپنے دفاع میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قطر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، مگر آئندہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
