اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی بحران کے پیش نظر قوم سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کو بھی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
رمضان میں کراچی میں بلڈر مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن، غیر قانونی تعمیرات فوری انہدام کا حکم
وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 60 سے بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور پاکستان کی معیشت کا انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان نے مشکل فیصلے کیے ہیں تاکہ توانائی بحران کو کم سے کم کیا جا سکے اور معیشت مستحکم رہے۔
کفایت شعاری اقدامات کی تفصیل:
-
آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی، ایمبولینسز مستثنیٰ ہوں گی۔
-
60 فیصد سرکاری گاڑیاں آئندہ دو ماہ کے لیے گراؤنڈ کی جائیں گی۔
-
وفاقی وزرا، مشیران اور معاونین رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاونسز معطل کریں گے، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی۔
-
سرکاری محکموں کے تنخواہوں اور اخراجات میں 20 فیصد کمی، دفاتر میں اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی۔
-
گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہوں سے دو دن کی کٹوتی عوامی ریلیف کے لیے استعمال ہوگی۔
-
سرکاری افسران، وزرا اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر پابندی، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر پابندی۔
-
سرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری خدمات کو چھوڑ کر 50 فیصد اسٹاف کام کرے گا۔
-
ہفتے میں دفاتر صرف چار دن کھلیں گے، ایک دن اضافی چھٹی، بینکوں پر لاگو نہیں۔
-
اسکولوں کو فوری دو ہفتوں کی چھٹیاں، تمام تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا آغاز۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اقدامات عوام پر توانائی اور مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں اور قوم سے اپیل کی کہ سب مل کر کفایت شعاری میں اپنا کردار ادا کریں۔
