اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی پشت پناہی کی ہے اور افغان حکومت پر مزید اعتبار کرنا درست نہیں۔ جیونیوز سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان سے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، مگر کابل حکومت پر اعتماد کرنا ایک بڑا خطرہ ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دے گی، ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل پر 2200 روپے
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان کی فرنچائز ہے اور اگر افغان حکومت ان کی پشت پناہی نہ کرتی تو یہ تنظیم پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ موجودہ رویہ پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے اور مستقبل میں بھی یہ رویہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
وزیر دفاع نے عالمی توانائی بحران پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پوری دنیا میں اثرانداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے خیر سگالی کا پیغام دیا اور دعا کی کہ یہ عارضی مرحلہ جلد ختم ہو اور موجودہ جنگ کا کوئی پائیدار حل نکل آئے۔
خواجہ آصف کے مطابق، پاکستان کی قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے رویے پر نظر رکھی جائے اور دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
