کراچی میں حکومت سندھ نے صوبے بھر میں گاڑیوں کیلئے تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی قرار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹریفک حادثات میں متاثر ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کو فوری مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
چین کا ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی فوری بندش کا مطالبہ
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اب کوئی بھی گاڑی بغیر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نہ تو رجسٹرڈ ہو سکے گی اور نہ ہی اس کا ٹوکن ٹیکس جمع کرایا جا سکے گا۔ نئی پالیسی کے تحت اگر کسی ٹریفک حادثے میں کوئی شخص جاں بحق ہو جائے تو اس کے ورثا کو 7 لاکھ روپے جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے تک معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گاڑیوں کیلئے نو فالٹ معاوضہ سسٹم کی منظوری بھی دے دی ہے، جس کے تحت حادثے کے متاثرین کو مالی امداد کے حصول میں غیر ضروری پیچیدگیوں سے بچایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کا پہلا جدید ڈیجیٹل انشورنس مانیٹرنگ سسٹم بھی سندھ میں فعال کر دیا گیا ہے تاکہ انشورنس پالیسیوں کی تصدیق اور نگرانی کو شفاف بنایا جا سکے۔
حکومت سندھ نے سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کرتے ہوئے ایک نئی دفعہ بھی شامل کر دی ہے، جس کے بعد گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی کیلئے بھی درست اور قابلِ تصدیق انشورنس پالیسی کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی ہے کہ اس قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام روڈ سیفٹی کو بہتر بنانے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق تھرڈ پارٹی انشورنس کا قانون خاص طور پر ان غریب خاندانوں کیلئے بڑا سہارا بنے گا جو کسی حادثے کی صورت میں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کو اس قدر شفاف بنایا گیا ہے کہ جعلی انشورنس پالیسیوں کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا اور متاثرہ شہریوں کو قانون کے مطابق فوری مالی ریلیف مل سکے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ عوام کو اس نئے قانون کے فوائد سے آگاہ کرنے کیلئے بھرپور آگاہی مہم بھی چلائی جائے۔
