موہن جو دڑو میں تاریخی پیش رفت، شہر کی قدیم حفاظتی فصیل دریافت

لاڑکانہ: سندھ کے عالمی شہرت یافتہ قدیم مقام موہن جو دڑو میں جاری کھدائی کے دوران ماہرین آثارِ قدیمہ کو ایک بڑی اور اہم تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں شہر کی حفاظت کے لیے تعمیر کی گئی قدیم دیوار (فصیل) دریافت کر لی گئی ہے۔

پاک بحریہ نے 14ویں بار CTF-150 کی کمان سنبھال لی، کموڈور محمد یاسر طاہر نے ذمہ داریاں سنبھال لیں

ماہرین کے مطابق مرکزی شہر کے گرد کچی اینٹوں سے بنی ایک مضبوط حفاظتی فصیل کے آثار سامنے آئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ موہن جو دڑو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا منظم شہر تھا۔ یہ کھدائی پاک–امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے تحت جاری ہے، جس کی نگرانی امریکی پروفیسر جوناتھن مرک کینویئر اور ماہر آثارِ قدیمہ علی لاشاری کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 1950 اور 1951 میں برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ سر مارٹر وہیلر نے اپنی تحقیق میں ان آثار کو کچی اینٹوں کی بنیاد قرار دیا تھا، تاہم نئی کھدائی اور زمینی تہوں کے شواہد سے اب یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل شہر کی باقاعدہ حفاظتی فصیل ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فصیل غالباً تجارت کو منظم کرنے، آمد و رفت کو کنٹرول کرنے، شہری نظم و نسق قائم رکھنے اور شہر کے انتظامی و منصوبہ بندی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے تعمیر کی گئی تھی، جو موہن جو دڑو کی اعلیٰ شہری منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہے۔

صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے اس اہم دریافت پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دریافت سندھ کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی سے تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سیاحتی فروغ میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ پاک–امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کی یہ کامیابی بین الاقوامی تعاون کی بہترین مثال ہے اور سندھ حکومت آثارِ قدیمہ کے تحفظ، تحقیق اور فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

64 / 100 SEO Score

2 thoughts on “موہن جو دڑو میں تاریخی پیش رفت، شہر کی قدیم حفاظتی فصیل دریافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!