واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد ایران کی قیادت نے مذاکرات کے لیے امریکا سے رابطہ کیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے شدید سردی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایرانی رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے قبل ہی امریکا کو کارروائی کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ ایران میں 2022 کے بعد سے جاری سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں صدر ٹرمپ متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔
ایرانی حکومت نے مظاہروں کے دوران ہلاکتوں سے متعلق کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکے۔
یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق تہران میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہیں، گوشت کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں، بیشتر دکانیں بند ہیں اور سکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کے باعث کاروباری سرگرمیاں شام تک محدود ہو گئی ہیں۔
اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز میں کمی دیکھی گئی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش ہے یا حالات میں کمی۔ ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا گیا۔
یہ احتجاجی لہر 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔
سرکاری میڈیا نے جلتی عمارتوں، ایک مسجد اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی فوٹیج نشر کی، تاہم تین روز کی سخت کارروائیوں کے بعد اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔
تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے دعویٰ کیا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ ایرانی حکومت نے سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل بھی کی ہے۔
ٹرمپ کا ایران میں انٹرنیٹ بحالی پر ایلون مسک سے رابطے کا عندیہ
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں گزشتہ چار دن سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایلون مسک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ماہر ہیں اور ان کی کمپنی کی اسٹارلنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے، تاہم اس حوالے سے اسپیس ایکس یا ایلون مسک کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ
امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاج کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سفارت خانوں پر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا ایرانی پرچم لہرایا جائے۔ لندن میں مظاہرین کی جانب سے ایرانی سفارت خانے پر قدیم پرچم لہرانے کے بعد ایران نے برطانوی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔
