پاکستان اور چین نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مزید واضح، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ علاقائی اور عالمی سلامتی کو لاحق خطرات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد برآمد، تین دہشت گرد گرفتار
یہ بات پیر کو چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہی گئی۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب نے 4 جنوری کو بیجنگ میں چین۔پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معاشی شعبوں، انسدادِ دہشت گردی، دفاع اور علاقائی صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہیں، کیونکہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ پاکستان افغان طالبان حکومت پر ان کارروائیوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے، تاہم کابل ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے اس امر پر زور دیا کہ افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ تنظیمیں خطے اور دنیا بھر کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے اور کسی ریاست کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔
دوطرفہ تعاون کے حوالے سے دونوں ممالک نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جنوب مغربی پاکستان میں واقع گوادر بندرگاہ کی تعمیر، ترقی اور آپریشن کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں چین نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کیے گئے جامع اقدامات اور ملک میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ دونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کاربند رہنے اور انسدادِ دہشت گردی و سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
