کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے شہر کو ایک بڑی ممکنہ دہشت گردی سے بچا لیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کارروائی کے دوران دو ہزار کلوگرام سے زائد تیار بارودی مواد قبضے میں لے کر تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔
وزیر بلدیات سندھ کی زیر صدارت سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کا اجلاس
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے خفیہ اطلاع پر کراچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کی، جہاں سے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد ہوا۔ بعد ازاں گرفتار ملزم کی نشاندہی پر شہر کے مختلف علاقوں میں چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن کے دوران مزید دو دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکا خیز مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا۔ دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مکان کرائے پر حاصل کر رکھا تھا، جہاں بارودی مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیے گئے، جن میں کمرشل ایکسپلوسیو اور مختلف اقسام کا مکس بارودی مواد موجود تھا۔ برآمد ہونے والا تمام مواد مکمل طور پر تیار اور انتہائی خطرناک نوعیت کا تھا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق اس دہشت گردی کے منصوبے کے تانے بانے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے جا ملتے ہیں۔ یہ منصوبہ بیرون ملک تیار کیا گیا تھا جبکہ سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جن کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں گرفتار افراد کا تعلق بشیر زیب نیٹ ورک، کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنۃ الہندوستان سے سامنے آیا ہے۔
گرفتار دہشت گردوں کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی رات کے وقت کی گئی، اس لیے ماہرین کی آراء اور مختلف اداروں کی تصدیقی رپورٹس موصول ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
