...

سعید غنی کا بڑا انکشاف، محکمہ محنت میں 20 ارب روپے سے زائد کرپشن کا اعتراف

Saeed Ghani نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے زیر انتظام ادارے میں 20 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر انہیں دباؤ کا سامنا بھی ہے، تاہم ذمہ داروں کو سزا دلانے کی کوشش جاری ہے۔

سعید غنی نے یہ بات کراچی میں منعقدہ آل پاکستان وومن ورکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے بیان نے سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سعید غنی کا کرپشن سے متعلق انکشاف

آرٹس کونسل کراچی میں خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ ان کے ادارے میں 20 ارب روپے سے زیادہ کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر مختلف نوعیت کا دباؤ موجود ہے، لیکن وہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی اور انہیں سزا دلانا ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے خطاب میں ان بے ضابطگیوں کی نوعیت یا متعلقہ افراد کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سعید غنی کا مزدوروں کی اجرت پر مؤقف

اپنے خطاب میں سعید غنی نے کم از کم اجرت کے مسئلے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزدور 40 ہزار روپے سے کم اجرت پر کام کرنے سے انکار کر دیں تو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزارت بچانے کے لیے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق عہدہ اہم نہیں بلکہ درست فیصلے اہم ہیں۔

ہوم بیسڈ ورکرز سے متعلق سعید غنی کا بیان

سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت ملک کی پہلی حکومت ہے جس نے ہوم بیسڈ ورکرز کو باقاعدہ تسلیم کیا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد گھر سے کام کرنے والی خواتین اور دیگر کارکنوں کو قانونی شناخت اور حقوق فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مزدور طبقے کے مسائل کے حل کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غیر رسمی شعبے سے وابستہ کارکن بھی سماجی تحفظ حاصل کر سکیں۔

وومن ورکرز کانفرنس میں خطاب

کانفرنس کا انعقاد ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کے تحت کیا گیا تھا۔ تقریب میں خواتین کارکنوں کے حقوق، اجرت، سماجی تحفظ اور روزگار سے متعلق مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔

سعید غنی نے اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ایک ادارے کے برطرف شدہ ملازم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان نے محنت کے ذریعے مشکلات کا سامنا کیا اور تعلیم حاصل کی۔

کرپشن الزامات اور آئندہ کارروائی

سعید غنی کے بیان کے بعد توجہ اس جانب مرکوز ہوگئی ہے کہ مبینہ کرپشن کے معاملے میں مزید کیا پیش رفت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ کیسز پر کارروائی جاری ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تاہم اس معاملے سے متعلق مزید تفصیلات اور سرکاری تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.