توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں الگ الگ اپیلیں دائر

اسلام آباد میں بانی تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ دونوں نے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف الگ الگ اپیلیں دائر کی ہیں۔

سٹی کورٹ کراچی میں یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کا معاملہ، ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج

خصوصی عدالت نے 20 دسمبر کو توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ مئی 2021 کے سرکاری دورۂ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے دیے گئے قیمتی بلغاری جیولری سیٹ کو مبینہ طور پر کم قیمت پر خریدنے سے متعلق ہے۔

استغاثہ کے مطابق زیورات کے اس سیٹ کی مالیت تقریباً 8 کروڑ روپے تھی، جسے عمران خان نے صرف 29 لاکھ روپے ادا کر کے اپنے پاس رکھا۔ تاہم اپیلوں میں اس فیصلے کو سیاسی بنیادوں پر دیا گیا قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس مقدمے کا مقصد اپیل کنندگان کو مسلسل قید میں رکھنا، ملکی سیاست میں ان کے کردار کو محدود کرنا اور انہیں انتخابی و سیاسی عمل سے باہر رکھنا ہے۔

اپیلوں میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ کیس ابتدا میں قومی احتساب بیورو نے دائر کیا، جسے بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کر دیا گیا۔ اپیل کے مطابق ٹرائل کورٹ نے تفتیشی طریقۂ کار میں موجود خامیوں کو نظر انداز کیا جبکہ ایف آئی اے نے تفتیش شروع ہونے کے محض دو دن کے اندر چالان جمع کرا دیا، جو شفاف اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے منافی ہے۔

اپیلوں میں مزید کہا گیا ہے کہ ریکارڈ پر کسی قسم کی ایف آئی آر موجود نہیں، جبکہ توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ سے متعلق چوتھا مقدمہ ہے جو دہری سزا کے زمرے میں آتا ہے۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک ہی معاملے پر بار بار فوجداری کارروائی کرنا آئین اور قانون کے منافی ہے۔

اپیل کے مطابق نیب نے تحائف کو جان بوجھ کر الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے مختلف مقدمات بنائے، حالانکہ توشہ خانہ ون اور ٹو کے معاملات کو ایک ہی مشترکہ ٹرائل میں سنا جانا چاہیے تھا۔ اپیلوں میں کہا گیا کہ متعدد کارروائیوں کا مقصد اپیل کنندگان کو مسلسل قید میں رکھنا ہے۔

اپیل میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ سزا سناتے وقت 2018 کی توشہ خانہ پالیسی کو نظر انداز کیا گیا، جس کے تحت تحائف رپورٹ کر کے فیس ادا کرنے کے بعد اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔ اپیل کے مطابق پالیسی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، تحائف جمع کرائے گئے اور مقررہ فیس بھی ادا کی گئی، جبکہ پالیسی میں کسی فوجداری سزا یا مجرمانہ خیانت کا ذکر موجود نہیں۔

عمران خان کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ وہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 21 کے تحت سرکاری ملازم کے زمرے میں نہیں آتے، جبکہ بشریٰ بی بی کی اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں اور کبھی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہیں، اس لیے ان کے خلاف سزا قانونی اختیار کے بغیر دی گئی۔

دونوں اپیلوں میں استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کا 20 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس سے بری کیا جائے۔

واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اس وقت 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ بشریٰ بی بی بھی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سات سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں۔

65 / 100 SEO Score

One thought on “توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں الگ الگ اپیلیں دائر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!