امریکا میں وزن کم کرنے والی ادویات کی منظوری، فاسٹ فوڈ اور پیک شدہ غذاؤں کی صنعت میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

امریکا میں بھوک کم کرنے اور وزن گھٹانے والی نئی ادویات کی منظوری کے بعد آئندہ برس پیک شدہ غذاؤں اور فاسٹ فوڈ انڈسٹری کو اپنی مصنوعات میں نمایاں تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں، کیونکہ ان ادویات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے صارفین کی خوراک سے متعلق ترجیحات میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

سی ٹی او لاہور کی بڑی کارروائی، 2 ارب 64 کروڑ 60 لاکھ روپے انکم ٹیکس کی ریکوری

خبر ایجنسی کے مطابق امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے رواں ہفتے دوا ساز کمپنی نوو نورڈسک کی جی ایل پی-ون گولی ویگووی کی منظوری دی، جس کے بعد خوراک تیار کرنے والی متعدد کمپنیوں کے شیئرز میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات کی مقبولیت کے باعث صارفین اب کم مقدار، زیادہ پروٹین اور صحت سے متعلق دعووں والی غذاؤں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسی بدلتے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے فوڈ کمپنیاں مصنوعات کی لیبلنگ میں تبدیلی، پروٹین کی مقدار بڑھانے اور چھوٹے حصوں کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ان ادویات کے استعمال کرنے والے صارفین کے گروسری اخراجات میں اوسطاً 5.3 فیصد جبکہ فاسٹ فوڈ ریستورانوں پر اخراجات میں تقریباً 8 فیصد کمی دیکھی گئی، تاہم دوا کا استعمال بند کرنے کے بعد یہ اثرات بتدریج کم ہو گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑی فوڈ کمپنیاں پہلے ہی زیادہ پروٹین والی اور مخصوص صارفین کے لیے تیار کردہ مصنوعات متعارف کرا چکی ہیں، جبکہ بعض ریستوران چینز نے کم مقدار اور نسبتاً کم قیمت مینو آپشنز بھی شامل کیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات کی آسان دستیابی اور نسبتاً کم قیمت کے باعث ان کا استعمال طویل مدت تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی صنعت میں طلب اور مصنوعات کی نوعیت میں دیرپا تبدیلیاں متوقع ہیں۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “امریکا میں وزن کم کرنے والی ادویات کی منظوری، فاسٹ فوڈ اور پیک شدہ غذاؤں کی صنعت میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!