اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) اور متعلقہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے خطرناک بھتہ خور نیٹ ورک کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ ایس ایس پی ایس آئی یو کے مطابق یہ کارروائی ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم نے انجام دی، جس میں ڈی آئی جی ویسٹ، سی آئی اے، ایس ایس پی سینٹرل اور ایس ایس پی ایس آئی یو شامل تھے۔
عبداللہ ہارون روڈ پر معذور افراد کے لیے خصوصی ریمپ کا افتتاح تین تلوار چورنگی پر کام کا آغاز
پولیس حکام کے مطابق کارروائی پہلے سے گرفتار بھتہ خور ملزم ریحان الدین کی نشاندہی پر کی گئی، جسے دو روز قبل پولیس مقابلے میں زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران 3 ہائی پروفائل ملزمان اور 3 شوٹرز سمیت مجموعی طور پر 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتار ملزمان میں جواد عرف واجہ قادری، ریحان الدین اور ملا شاہزیب مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں، جن کا تعلق ایک انتہائی مطلوب اور خطرناک بھتہ خور گروہ سے ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان وصی اللہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواری کے نیٹ ورک کو چلا رہے تھے، جو اس وقت بیرون ملک روپوش ہیں۔
کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا، جس میں جی تھری رائفل، ایس ایم جیز اور پستول شامل ہیں۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف بھتہ خوری اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں 10 مقدمات درج کر لیے ہیں۔
ایس ایس پی کے مطابق گرفتار ملزم ریحان الدین ایم اے جناح روڈ پر کار شوروم فائرنگ کیس اور ایک ماہ قبل جمشید کوارٹر تھانے میں درج بھتے کے مقدمے میں بھی ملوث رہا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ریحان الدین نے گروہ کے دیگر سربراہان، کارندوں اور بھتہ خوری کی متعدد وارداتوں سے متعلق اہم انکشافات کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 17 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے 8 افراد کا کرمنل ریکارڈ سامنے آ چکا ہے۔ بھتہ خوری کے دوران فائرنگ میں ملوث مزید 3 ملزمان شعیب، طاہر اور عامر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ 3 سہولت کار ملزمان غیر قانونی اسلحے سمیت پولیس کی تحویل میں ہیں۔
پولیس کے مطابق دیگر گرفتار افراد کے کرمنل ریکارڈ کی تصدیق کا عمل جاری ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی اور تفتیش بھی جاری ہے۔
