گزشتہ رات رضویہ تھانے کی حدود میں اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ (ایس آئی یو) اور ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے مشترکہ طور پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھتہ خور گروہ کے خلاف اہم کامیابی حاصل کر لی۔ ایس ایس پی ایس آئی یو محمد عمران خان کے مطابق یہ کارروائی ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم نے انجام دی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا شاہراہِ بھٹو پر این۔فائیو ملیر ندی پل منصوبے کا دورہ مقررہ مدت میں تکمیل کی ہدایت
خصوصی ٹیم میں ڈی آئی جی ویسٹ، سی آئی اے، ایس ایس پی سینٹرل اور ایس ایس پی ایس آئی یو شامل تھے۔ کارروائی پہلے سے گرفتار بھتہ خور ملزم ریحان الدین کی نشاندہی پر کی گئی، جسے دو روز قبل پولیس مقابلے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔
کارروائی کے دوران تین ہائی پروفائل شوٹرز سمیت مجموعی طور پر 9 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں جواد عرف واجہ قادری، ریحان الدین اور ملا شاہزیب مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ پولیس کے مطابق ملزمان انتہائی مطلوب اور خطرناک بھتہ خور گروہ سے تعلق رکھتے تھے اور وصی اللہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواری کے نیٹ ورک کو چلا رہے تھے، جو اس وقت بیرونِ ملک روپوش ہیں۔
ایس ایس پی کے مطابق ملزمان پولیس کو متعدد بھتہ خوری کے مقدمات میں مطلوب تھے۔ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا، جس میں جی تھری رائفلز، ایس ایم جیز اور پستول شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف بھتہ خوری اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات میں 10 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم ریحان الدین ایم اے جناح روڈ کے ایک کار شوروم پر فائرنگ کے مقدمے میں بھی ملوث تھا، جبکہ ایک ماہ قبل جمشید کوارٹر تھانے میں اس کے خلاف بھتے کا مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے گروہ کے دیگر سربراہان، کارندوں اور بھتہ خوری کے متعدد واقعات سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
ایس ایس پی محمد عمران خان کے مطابق مجموعی طور پر 17 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے ابتدائی جانچ میں 8 افراد کا مجرمانہ ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ بھتہ خوری کے دوران فائرنگ میں ملوث تین مزید ملزمان شعیب، طاہر اور عامر بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں، جبکہ تین سہولت کار ملزمان کو غیر قانونی اسلحے سمیت تحویل میں لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیگر افراد کے کرمنل ریکارڈ کی جانچ اور ویریفکیشن کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی اور تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
