شہر میں بیٹرمنٹ چارجز کی وصولی اور اس کی تقسیم کے نظام پر اہم سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے گزشتہ پانچ سال کے دوران وصول کیے گئے بیٹرمنٹ چارجز کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
کراچی میں ایس آئی یو کا بھتہ خور گروہ سے فائرنگ کا تبادلہ ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار
محکمہ بلدیات نے ایس بی سی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ 2016 سے 2025 تک جمع ہونے والے بیٹرمنٹ چارجز کی جامع رپورٹ جمع کرائے، جس میں یہ واضح کیا جائے کہ یہ رقوم کن اداروں میں اور کس تناسب سے تقسیم کی گئیں۔
محکمہ بلدیات نے سوال اٹھایا ہے کہ بیٹرمنٹ چارجز کی رقم بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی)، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں میں کیسے تقسیم ہوئی۔ اس حوالے سے تمام بینک اسٹیٹمنٹس، رسیدیں، نوٹیفکیشنز اور احکامات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ بلدیات نے گزشتہ پانچ سال کے دوران بیٹرمنٹ چارجز کی تقسیم کے لیے استعمال ہونے والے قانونی فارمولے اور اس میں کی جانے والی ممکنہ تبدیلیوں کی تفصیل بھی طلب کر لی ہے۔ اس کے ساتھ یہ وضاحت بھی مانگی گئی ہے کہ اگر کسی مرحلے پر بیٹرمنٹ چارجز کی مکمل تقسیم نہیں کی گئی یا رقوم روکی گئیں تو اس کی وجوہات کیا تھیں۔
ذرائع کے مطابق بیٹرمنٹ چارجز سے متعلق مختلف ہیڈز آف اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹس بھی طلب کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے بیٹرمنٹ چارجز کی موجودہ تقسیم کے فارمولے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے محکمہ بلدیات کو باقاعدہ خط ارسال کیا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں بیٹرمنٹ چارجز کی تقسیم کے فارمولے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس پر شفافیت اور یکسانیت سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔

