وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات میں 13 فیصد اضافہ کفایت شعاری دعووں کے باوجود اخراجات میں مسلسل نمو

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری مالیاتی اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران ’سول حکومت کے انتظام‘ کے اخراجات میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس عرصے میں اخراجات بڑھ کر 161 ارب 20 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 142 ارب 50 کروڑ روپے تھے۔
آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ “ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025” اختتام پذیر، عالمی فنکاروں کی رنگا رنگ پرفارمنس

یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ انتظامی کفایت شعاری، عملے میں کمی اور ساختی اصلاحات کے ذریعے اخراجات کم کر رہی ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ گزشتہ برس حکومت ڈیڑھ لاکھ سے زائد آسامیوں کو ختم کر چکی ہے جبکہ وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے ماتحت اداروں میں انضمام اور بندش کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

تقریباً ایک ہفتہ قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے 54 ہزار مزید خالی آسامیوں کو ختم کر دیا ہے، جس سے سالانہ 56 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی اصلاحات کے تحت متعدد وزارتوں میں ساختی تبدیلیاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سول حکومت کے اخراجات میں اضافہ نیا رجحان نہیں۔ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی ان اخراجات میں 8 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ مالی سال 2024 میں یہی اضافہ 29 فیصد رہا۔ مالی سال 2022 کی پہلی سہ ماہی میں یہ اخراجات 89 ارب 50 کروڑ روپے تھے، جو اب تقریباً 80 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام تک سول انتظامی اخراجات کا مجموعی حجم 892 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔

دوسری جانب پنشن کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنشن ادائیگیاں 249 ارب 50 کروڑ روپے رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پنشن بل میں 125 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور مالی سال 2024 کے اختتام تک یہ حجم 911 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔

سول انتظامیہ اور پنشن جیسے ناگزیر اخراجات کے برعکس، سبسڈی کی ادائیگیوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ سامنے آیا ہے۔ رواں سہ ماہی میں سبسڈی کا خرچ 120 ارب روپے تک جا پہنچا، جو گزشتہ سال کے 20 ارب روپے کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔ مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی میں حکومت نے صرف 2.5 ارب روپے سبسڈی جاری کی تھی، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں یہ ادائیگیاں بالترتیب 93 ارب اور 74 ارب روپے تھیں۔

گزشتہ مالی سال کے اختتام تک سبسڈی کا مجموعی بوجھ 12 کھرب 98 ارب روپے ہو چکا تھا۔

اگرچہ حکومت 2021 سے آئی ایم ایف کے تحت کفایت شعاری پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، جن میں نئی گاڑیوں، مشینری اور نئی آسامیوں پر پابندی شامل ہے، تاہم مختلف وزارتوں اور اداروں کی جانب سے ان پابندیوں کو مؤثر طریقے سے بائی پاس کرنے کے واقعات مسلسل رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

53 / 100 SEO Score

One thought on “وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات میں 13 فیصد اضافہ کفایت شعاری دعووں کے باوجود اخراجات میں مسلسل نمو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!