جعلی ویزوں اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف بڑا فیصلہ — پروٹیکٹر نظام فول پروف، امیگریشن میں اصلاحات، اے آئی بیسڈ ایپ متعارف

اسلام آباد — وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت ایک اہم خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرون ممالک جانے والے افراد کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ اور آسٹریلوی ہائی کمشنر کی ملاقات، سرمایہ کاری، تعلیم اور کھیلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اجلاس میں پروٹیکٹر کے اجراء کے نظام کو مکمل طور پر فول پروف بنانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ مسافروں کی سہولت کے لیے امیگریشن سسٹم میں وسیع اصلاحات کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ دونوں وزراء نے متعلقہ اداروں کو 7 روز میں حتمی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جعلی ویزوں کے کاروبار میں ملوث عناصر اور ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوری سے اسلام آباد میں اے آئی بیسڈ ایپ کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے یہ پہلے سے معلوم ہو سکے گا کہ کون شخص سفر کے قابل ہے اور کون نہیں۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ ڈیپورٹ شدہ افراد کے پاسپورٹس منسوخ ہونے کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ انہیں دوبارہ ویزہ نہ مل سکے۔ ساتھ ہی اعلان کیا کہ یکساں بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس نیشنل پولیس بیورو سے جاری کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر سالک حسین نے پروٹیکٹر کے شفاف نظام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبر ویزے پر بیرون ملک جانے والے افراد کے لیے مستند اور مکمل دستاویزات کا ہونا لازمی ہے، اور وزارتِ اوورسیز پاکستانیز، امیگریشن سسٹم کی بہتری کے لیے وزارتِ داخلہ سے مکمل تعاون کرے گی۔

اجلاس میں غیر قانونی تارکین وطن، نامکمل دستاویزات کے حامل افراد کے خلاف موجودہ کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران ای-ڈرائیونگ لائسنس، پروٹیکٹر اسٹامپ اور امیگریشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور بھی کیا گیا۔

اجلاس میں سیکرٹری و اسپیشل سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز، چیئرمین نادرا، ڈی جی و ڈائریکٹرز ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن سمیت تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

58 / 100 SEO Score

One thought on “جعلی ویزوں اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف بڑا فیصلہ — پروٹیکٹر نظام فول پروف، امیگریشن میں اصلاحات، اے آئی بیسڈ ایپ متعارف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!