عالمی خبر رساں اداروں نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال کے باوجود دعویٰ کیا ہے کہ "فیز ٹو بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے” اور یہ مرحلہ "بہت جلد” شروع ہونے والا ہے۔ یہ اعلان خطے میں نئی تشدد کی لہر کے دوران سامنے آیا ہے۔
ABAD نے وزیرِ اعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر SBCA کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریاض ملا کے خلاف بلیک میلنگ اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، بدھ کے روز اوول آفس میں ایک صحافی نے جب ٹرمپ سے سوال کیا کہ دوسرا مرحلہ کب شروع ہوگا، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ عمل "اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے”۔
ترک اخبار ینی شفق کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ "ہمارے پاس مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے، مگر لوگ اسے سمجھ نہیں رہے”، تاہم اسرائیلی فضائی حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں نے اس بیان پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
اسرائیلی حملے اس وقت تیز ہوئے جب رفاع میں جھڑپوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے پر وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے سخت ردعمل کی دھمکی دی تھی۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ "فیز ٹو بہت جلد شروع ہونے والا ہے”، حالانکہ وہ 14 اکتوبر کو بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ دوسرا مرحلہ "شروع ہو چکا ہے”۔
مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق، ایک ٹیلیفون کال میں ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ "وہ (حماس جنگجو) کیوں مارے جا رہے ہیں، انہیں ہتھیار ڈالنے کیوں نہیں دیے جا رہے؟” جس پر نیتن یاہو نے جواب دیا کہ یہ جنگجو "مسلح اور خطرناک” ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر جاری ہیں۔ پہلے مرحلے میں اسرائیلی افواج کا جزوی انخلا، قیدیوں کی رہائی اور امداد میں اضافہ شامل تھا، تاہم ایک مغوی کی لاش اب بھی واپس نہیں کی گئی، جس کے بغیر اسرائیل مذاکرات آگے بڑھانے کو تیار نہیں۔
مصر جلد غزہ کی تعمیرِ نو پر ایک کانفرنس منعقد کرے گا، مگر تاریخ کا اعلان تاحال نہیں ہوا۔
محققین کے مطابق، ٹرمپ پلان کی مبہم تفصیلات کی وجہ سے امن عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا، جبکہ اسرائیل نے بھی جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں اپنائی۔
