سانحہ نیپا چورنگی: سب ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں، اصل ذمہ داری سے کوئی نہیں بچ سکتا، ناصر حسین شاہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیرِ بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے سانحہ نیپا چورنگی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے پر تمام ادارے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں، کوئی کہہ رہا ہے یہ لائن تھی، کوئی کہہ رہا ہے وہ لائن تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ جس کو بھی کھلے مین ہول کا علم تھا، وہ ہی اصل ذمہ دار ہے۔

سال کا آخری کولڈ سپر مون آج اور کل رات آسمان پر نمایاں سپارکو کا عوام کو مشاہدے کی دعوت

ناصر حسین شاہ نے اعتراف کیا کہ حادثہ ہونے کے بعد کسی ادارے نے بروقت کام نہیں کیا اور نہ ہی فوری امدادی کارروائی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک 22 بچے کھلے مین ہولز میں گر کر جاں بحق ہوچکے ہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ برداشت صورتحال ہے۔

وزیرِ بلدیات نے کہا کہ اب جس بھی جگہ کوتاہی پائی گئی، فوری اور سخت کارروائی ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سوگوار خاندان کے گھر گئے اور ان سے معافی بھی مانگی۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ جہاں بھی بغیر ڈھکن کے مین ہول نظر آئے، فوراً شکایت درج کروائیں تاکہ بڑے سانحات سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ نیپا چورنگی پر ہم سب سوگوار خاندان کے غم میں شریک ہیں، اور اس واقعے میں ہم سب ذمہ دار ہیں، کوئی اس سے بری الذمہ نہیں۔

وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ قیادت کی واضح ہدایت ہے کہ “سب کام چھوڑ کر ہر مین ہول پر ایک شخص کی ڈیوٹی لگائی جائے” تاکہ دوبارہ ایسا المناک واقعہ پیش نہ آئے۔

57 / 100 SEO Score

One thought on “سانحہ نیپا چورنگی: سب ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں، اصل ذمہ داری سے کوئی نہیں بچ سکتا، ناصر حسین شاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!