قبائلی علاقے پھوگلہ تمّن بزدار میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں گل شیر نامی شخص پر سولر پینل چوری کا الزام عائد کیا گیا اور اسے ایک قدیم، غیر قانونی اور ظالمانہ قبائلی رسم "آس، آف” (آگ پانی) کے تحت اذیت ناک آزمائش سے گزارا گیا۔
عابد علی کی یادیں آج بھی دل میں زندہ ہیں خود کو مصروف رکھتی ہوں تاکہ دکھ کم ہو رابعہ نورین
تشکر نیوز کی رپورٹ کے مطابق جرگہ نے گل شیر کی بےگناہی جانچنے کے لیے اسے سرخ گرم لوہے کی سلاخ ہاتھ میں اٹھانے کا حکم دیا۔ دہکتے ہوئے لوہے کو پکڑنے کے دوران اس کے ہاتھ بری طرح جھلس گئے، جس کے باوجود جرگہ نے اسے چوری کا مجرم قرار دے کر 2 لاکھ روپے جرمانہ اور علاقے سے بےدخلی کی سزا سنا دی۔
ذرائع کے مطابق گل شیر اور اس کے اہل خانہ نے جب اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی تو جرگہ اراکین نے انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) نے حرکت میں آتے ہوئے تمام جرگہ اراکین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اور کوہ سلیمان قبائلی علاقے کے پولیٹیکل اسسٹنٹ امیر تیمور نے بتایا کہ ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ایسے غیر قانونی قبائلی فیصلوں کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان جلد گرفتار کر لیے جائیں گے اور قانون اپنا راستہ لے گا۔
