کرغیز جمہوریہ کے صدر سادر ژاپاروف پاکستان کے دو روزہ پہلے سرکاری دورے پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں یہ کسی کرغیز صدر کا پہلا دورہ ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے نئے دور کی بنیاد ثابت ہوگا۔
ایڈمن سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے دوران SBCA ٹیم پر حملہ
دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے صدر سادر ژاپاروف سے ملاقات کی اور انہیں پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر اسحٰق ڈار نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی طرف سے دلی مبارکباد اور نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔
اسحٰق ڈار نے پاکستان کی اعلیٰ سطحی سیاسی قیادت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان–کرغیز تعلقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، آئی ٹی، دفاع اور دیگر شعبوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے صدر ژاپاروف کو پاکستان کی قیادت کے ساتھ ان کی طے شدہ ملاقاتوں، کاروباری طبقے کے ساتھ متوقع روابط اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے ایجنڈے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
گزشتہ روز دفترِ خارجہ میں اسحٰق ڈار نے کرغیز وزیرِ خارجہ زینبیک کولو بایف سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے اہم شعبوں پر گفتگو ہوئی اور تعاون بڑھانے کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے ذرائع کے مطابق دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، قدرتی وسائل اور دفاع کے شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی توقع ہے۔ پاکستان اور کرغیزستان کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور روحانی وابستگیوں پر مبنی ہیں۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک نے رواں سال اگست میں کرپٹو کرنسی، بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل فنانس میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ جولائی میں بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس میں دوطرفہ تجارت کو 100 ملین ڈالر تک بڑھانے کی منظوری بھی دی گئی تھی۔
پاکستان اور کرغیزستان شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے بھی رکن ہیں، جو یوریشیا کی اہم سیاسی و سیکیورٹی تنظیم ہے اور اس میں چین، روس، بھارت اور ایران سمیت 10 ممالک شامل ہیں۔
