ترجمان سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی رہنما سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ ملک میں آنے والی قدرتی آفات کی بنیادی وجہ دریاؤں اور قدرتی بہاؤ کے راستوں پر قائم کی جانے والی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں، جنہوں نے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وہ کراچی میں ویمن میڈیا سینٹر کے تربیتی پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔
سانحہ نیپا کھلے مین ہولز اور حفاظتی غفلت پر عدالت سے جوڈیشل انکوائری کی درخواست دائر
اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے 21 لاکھ گھروں کی فراہمی کا منصوبہ جاری ہے اور ان گھروں کی ملکیت خواتین کے نام کی گئی ہے، تاکہ انہیں معاشی تحفظ اور بااختیار بنایا جا سکے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت خواتین کو مختلف پیشہ ورانہ مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے باعث ملک میں پہلا ویمن بینک اور ویمن پولیس اسٹیشن قائم ہوا، جو خواتین کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔
مصنوعی ذہانت پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اے آئی ایک طاقتور مگر خطرناک ٹول ہے، اس لیے خواتین سیاستدانوں کو محتاط رہنا ہوگا کیونکہ ایک غلط جملہ کسی بھی شخصیت کی ساکھ کو چند لمحوں میں متاثر کر سکتا ہے۔
خواتین کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے لازماً رپورٹ کرنا چاہیے، گھر والوں کو انہیں دبانے کے بجائے ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے سے فرسودہ سوچ کے خاتمے کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں۔
ویمن میڈیا سینٹر کی جانب سے 26 نومبر سے شروع ہونے والی پانچ روزہ ورکشاپ "اے آئی کے دور میں میڈیا اور سیاست پر اثر” میں شہر کی مختلف جامعات کی طالبات نے شرکت کی، جہاں طالبات کو جدید صحافتی اسکلز سے آگاہ کیا گیا۔ آخر میں سعدیہ جاوید نے شرکاء میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے اور ویمن میڈیا سینٹر کی کوششوں کو سراہا۔
