کراچی (کورٹ رپورٹر) — سندھ ہائیکورٹ نے لیاقت آباد میں رینجرز اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے 27 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عبید کے ٹو کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرلی۔
باجوڑ: سیکیورٹی فورسز کی خفیہ اطلاع پر کارروائی، ایک خوارجی ہلاک، اسلحہ و بارودی مواد برآمد
عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم عبید کے ٹو کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس کا دو بار ٹرائل ہوچکا ہے، ایک بار فوجی عدالت میں بھی کارروائی ہوئی تھی، جبکہ ایم کیوایم مرکز 90 سے گرفتار تمام ملزمان پہلے ہی رہا ہوچکے ہیں، صرف عبید کے ٹو اب تک جیل میں ہے۔ وکیل نے بتایا کہ عبید کے ٹو 2015 سے گرفتار ہیں، جبکہ اس کیس میں ان کی گرفتاری 2021 میں ڈالی گئی۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ 1998 میں رینجرز اہلکار لیاقت آباد کے علاقے میں پکٹ پر موجود جوانوں کو کھانا پہنچانے جا رہے تھے کہ ملزمان نے گھات لگا کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سپاہی دلدار حسین شہید اور حوالدار ممتاز علی زخمی ہوگئے۔ پراسیکیوٹر کے مطابق عبید کے ٹو نے اعترافِ جرم کیا تھا اور انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 2024 میں قانون کے مطابق عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
تاہم دلائل مکمل ہونے کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے عبید کے ٹو کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرلی اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
