قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس کنوینئر رمیش لال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں جعفر ایکسپریس دھماکے، ریلوے زمینوں کے استعمال اور کراچی فریٹ کوریڈور منصوبے سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
میر علی شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں فتنۃ الخوارج کے کمانڈر سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک
اجلاس کے آغاز میں ڈی آئی جی ریلوے پولیس نے جعفر ایکسپریس دھماکے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس اور چار سے پانچ ایکسپلوسوز استعمال کیے گئے۔ ان کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی تحقیقات میں حساس ادارے شامل ہیں۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ واقعہ ممکنہ طور پر بلوچستان سے پلان کیا گیا تھا۔ ریلوے پٹریوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور ایف سی کے ساتھ مشترکہ گشت بھی جاری ہے۔ کمیٹی نے ٹرینوں میں جیمرز نصب کرنے کی سفارش کر دی۔
اجلاس میں ریلوے کی زمینوں اور پراپرٹیز کے استعمال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ وزارت نے پہلی بار لینڈ اینڈ پراپرٹی ڈائریکٹوریٹ کے تحت باقاعدہ کام کا آغاز کیا ہے۔ ریلوے کی جائیدادوں کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جب کہ ہائی ویلیو پراپرٹیز لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں واقع ہیں۔
ان کے مطابق ان پراپرٹیز کی لیز مدت 33 سال تک بڑھائی جا سکتی ہے، جس سے ریلوے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ڈی ایس سکھر نے کمیٹی کو بتایا کہ ریلوے کے زیرِ استعمال 1,458 ایکڑ زمین موجود ہے، جب کہ 60 کچی آبادیاں ریگولرائز کی جا چکی ہیں۔ ارکانِ کمیٹی نے سکھر، حیدرآباد اور کراچی کے دورے کی تجویز دی تاکہ زمینوں کے استعمال کا موقع پر جائزہ لیا جا سکے۔
اجلاس میں وی آئی پی سیلون کے استعمال پر بھی بحث ہوئی۔ حکام نے بتایا کہ سیلون کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے کراچی تک سیلون کا کرایہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں 10 مسافر ایک ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔
مزید برآں، کراچی پورٹ سے پیپری تک فریٹ کوریڈور منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے پر کام آئندہ آٹھ ماہ میں شروع ہونے کا امکان ہے، جس کی ابتدائی سرمایہ کاری 40 کروڑ ڈالر متوقع ہے اور اس سلسلے میں یو اے ای کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی تکمیل سے ریلوے کی فریٹ کیپیسٹی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور کراچی میں ٹریفک دباؤ میں کمی آئے گی۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی ارکان نے نئے چیئرمین کے انتخاب کے لیے اسپیکر سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ رکن صادق علی میمن نے ذیلی کمیٹی میں شامل نہ کیے جانے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا
