معروف مصنفہ ثروت نذیر کے تحریر کردہ ڈرامے ’جمع تقسیم‘ نے اپنے منفرد اور حقیقت پر مبنی موضوع کی بدولت ناظرین کی خصوصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام پر مبنی یہ کہانی پاکستانی معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔
کرسٹیانو رونالڈو کا نیا ریکارڈ مگر ہنگری نے آخری لمحات میں گول کرکے پرتگال کو جیت سے محروم کردیا
ڈرامے میں طلحہ چہور اور ماورا حسین نے نئے شادی شدہ جوڑے قیس اور لیلیٰ کے کردار ادا کیے ہیں، جب کہ جاوید شیخ، رانا ظفر، حسن احمد، مدیحہ رضوی، آمنہ ملک، دیپک پروانی اور دیگر فنکاروں نے بھی اہم کردار نبھائے ہیں۔
ابتدائی اقساط میں ڈراما ایک روایتی گھریلو کہانی معلوم ہوا، مگر جیسے جیسے کہانی آگے بڑھی، ناظرین نے اس میں اپنی زندگیوں کی جھلک دیکھی اور بڑی تعداد میں اس کے ساتھ جڑ گئے۔
ڈرامے میں ماورا حسین کے کردار لیلیٰ کی مشکلات، سسرال میں گھریلو کاموں پر تنقید، اور ایم بی اے ہونے کے باوجود کمتر سمجھے جانے جیسے مناظر نے خواتین میں گہرا تاثر چھوڑا۔ ناظرین نے تبصروں میں اس کردار کے ساتھ بھرپور ہمدردی کا اظہار کیا۔
کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ لیلیٰ کو ایک ساتھ درجنوں گھریلو کام کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، جب کہ جدید سہولتوں کی تجویز دینے پر اسے بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ گھر کے اندر چھوٹی چھوٹی چیزوں جیسے دودھ یا کھانے پر جھگڑے، حسد اور رشتوں میں دراڑوں کو حقیقت کے قریب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ڈراما اس خیال کو بھی چیلنج کرتا ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام کوئی مذہبی فریضہ ہے۔ ثروت نذیر کے مطابق یہ ایک سماجی روایت ہے جسے غلط طور پر دین سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں کئی جوڑے پدرشاہی سوچ کے باعث دباؤ کا شکار ہیں جہاں بزرگ اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے کنٹرول قائم رکھتے ہیں۔
ہدایتکار علی حسن کی سادہ مگر اثرانگیز پیشکش نے ڈرامے کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔ کہانی میں غیر ضروری طوالت نہیں، ہر منظر کہانی کو آگے بڑھاتا ہے اور جذباتی مناظر کو حقیقت کے قریب رکھا گیا ہے۔
ڈراما ’جمع تقسیم‘ نہ صرف ناظرین کے دلوں کو چھو رہا ہے بلکہ یہ پاکستانی معاشرتی نظام پر ایک سنجیدہ سوال بھی اٹھا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر کہانی اسی رفتار سے آگے بڑھی تو یہ ڈراما پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک یادگار اضافہ ثابت ہوگا۔
